پاکستانی امریکن کمیونٹی کی نمائندہ تنظیم” حمد“ کا سالانہ عشائیہ

 

حمد کا مقصد کمیونٹی اور قوم کی مدد کرنا ہے، یوتھ کو لیکر آگے چلنا ہے۔ بالخصوص ان کے تعلیمی مقاصد کے حصول اور دوسروں کی مدد کے کردار کو یقینی بنانا ہے


 امر کو بھی یقینی بنانا ہے کہ کیسے کمیونٹی کے جواں سال ارکان کو اپنی ثقافت و اقدار کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ کیسے نئے سال میں نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہوا جائے


تقریب کے انعقاد میں ”حمد “ کے عہدیداران رانا جاوید، ڈاکٹر عاطف ڈار، بابر شیخ سمیت حمد کے دیگر عہدیداروں نے اہم کردرا دا کیا ،تقریب میں کمیونٹی ارکان نے اہل خانہ کے بڑی تعداد میں شرکت کی


 سال کو با مقصد بنائیں۔ اس میں عزم کریں کہ اس کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کریں گے، والدین کی ذمہ داریاں سب سے اہم ہیں ۔معروف سکالر ڈاکٹر مفتی محمد فرحان کا حمد کے عشائیہ میں خصوصی خطا ب


تقریب میں کمیونٹی کے جواں سال ارکان ہمدان اظہر، حماد علی ، اریحہ بتول، عمر فاروق خان اور راحیل ڈار نے نئے سال اور نئے چیلنجز سمیت کمیونٹی کے کردار کے حوالے سے متاثر کن خطابات کئے

نیویارک (خصوصی رپورٹ) پاکستانی امریکن کمیونٹی کی نمائندہ تنظیم حمد(HUMD)کا سالانہ عشائیہ گذشتہ ہفتے یہاں منعقد ہوا ۔ اس سال کے سالانہ عشائیہ کا موضوع نئے سال میں مواقع ، چیلنجز اور ذمہ داریاں رکھا گیا تھا ۔”حمد“ کے سالانہ عشائیہ کا ایک مقصد کمیونٹی ارکان و خاندانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے اور سماجی روابط کے فروغ کو یقینی بنانا ہے ، ساتھ ساتھ اس امر کو بھی یقینی بنانا ہے کہ کیسے کمیونٹی کے جواں سال ارکان کو اپنی ثقافت و اقدار کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جائے اور غور کیا جائے کہ کیسے نئے سال میں نئے چیلنجز سے نبرد آزما ہوا جائے۔ تقریب کے انعقاد میں ”حمد “ کے عہدیداران رانا جاوید، ڈاکٹر عاطف ڈار، بابر شیخ سمیت حمد کے دیگر عہدیداروں نے اہم کردرا دا کیا اور حسب روایت اس سال بھی سالانہ تقریب میں بڑی تعداد میں پاکستانی کمیونٹی کے ارکان نے اہل خانہ بالخصوص اپنے بچوں کے ساتھ شرکت کی ۔
ڈاکٹر عاطف ڈار کی جانب سے HUMDکی سال2016کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ آئندہ لائحہ عمل بھی پیش کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حمد کا مقصد کمیونٹی اور قوم کی مدد کرنا ہے، یوتھ کو لیکر آگے چلنا ہے۔ بالخصوص ان کے تعلیمی مقاصد کے حصول اور دوسروں کی مدد کے کردار کو یقینی بنانا ہے۔ حمد کا قیام گذشتہ سال عمل میں آیا۔ یہ خاندانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اس تنظیم نے مختصر عرصے میں کام کئے ہیں۔ آئی کیمپ کے علاوہ ہم نے گذشتہ سال فری سکول سپلائیز دیں۔ ہم دیگر شعبوں میں بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں جواں سال بینائی سے محروم ہم وطنو کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ حمد کی مدد کرنا چاہتے ہیں ، وہ بنک آف امریکہ کے اکاو¿نٹ میں عطیات جمع کروا سکتے ہیں۔
رانا جاوید جنہوں نے اشر ف العظیم کے ساتھ ملکر تقریب میں نظامت کے فرائض بھی انجام دئیے نے عشائیہ میں حمد کی جانب سے شرکاءکو خوش آمدید کہا اور انہیں سال نو کی اس پہلی میٹنگ اور اغراض و مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا ۔
بابر شیخ نے تمام مہمانوں کا شکرئیہ ادا کیا اور کہا کہ کمیونٹی بالخصوص فیملیز کا حمد کے ساتھ تعاون جاری رہا تو حمد یونہی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی ۔ اشرف العظیم نے کہا کہ سال کے پہلے دن کا انتخاب اس لئے کیا کہ نئے سال کا آغاز مل بیٹھ کر کریں۔ مقصد ہے کہ کیسے مل کر آگے بڑھا جائے اور مقاصد کو کیسے حاصل کریں۔
معروف سکالر مفتی فرحان نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نئے سال کے شروع میں سوچنا ہے کہ آنیوال سال ہی نہیں آنیوالے وقت میں کیسے ملکر آگے بڑھنا ہے۔ وقت تیزی سے گذر رہا ہے۔ پلک جھپکتے وقت گذر رہا ہے۔ہماری زندگی کے شروع ہونے اور ختم ہونے میں وقفہ بہت کم ہے۔ اس عرصے میں متعدد مواقع ملنے ہیں اور کامیابی اس میں ہے کہ ان مواقع سے مستفید ہو سکیں۔ وقت کا ان سے پوچھیں کہ جو وقت کا ایک لمحہ کھونے کے ساتھ بہت کچھ کھو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچپن جوانی اور بڑھاپے کے مراحل جلد گذر جانے ہیں۔ وقت کی قدر کرنی ہے۔ ایک سیکنڈ ہی نہیں بلکہ ایک ملی سیکنڈ کا بھی خیال کرنا ہے۔ وقت کا خیال کریں ، اعمال کا وقت ختم ہونے سے پہلے خیال کریں ، صحت کا بیمار ہونے سے پہلے خیال کریں ، زندگی کا اس وقت سے پہلے خیال کریں کہ جب یہ زندگی نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ والدین کی ذمہ داری بہت اہم ہے۔ بچوں کو یہاں پالنا آسان نہیں۔ بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دینا ہے۔ پیسے ضرور کمائیں لیکن اپنی اولاد کو جو وقت دیتے ہیں ، وہ آپ کی سب سے اہم سرمائیہ کاری اور کمائی ہے۔ صرف پیسوں کی خاطر اپنی اولاد کو نظر انداز نہ کریں۔ بچوں کو تعلیم ضروردیں لیکن انہیں دین سے بھی وابستہ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال کو با مقصد بنائیں۔ اس میں عزم کریں کہ اس کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کریں گے۔
کمیونٹی کے جواں سال رکن ہمدان اظہر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی پہچان کو کبھی نہیں چھپانا چاہئیے بلکہ اس پر فخر کرنا چاہئیے۔ بہت سے لوگ غلط تاثر کی وجہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اپنے کردار اور قول و فعل سے ان کی غلط فہمیوں اور تاثرات کو دورکریں۔
کمیونٹی کے جواں سال رکن حماد علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے عقائد کا جائزہ لیں تو بہت سے مشترکہ باتیں ملیں گی جن کی بنیاد ہر ایک ساتھ امن اور بھائی چارے سے رہنے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ینگ امریکن مسلم کے طور ہمیں اسلامو فوبیا کا چیلنج کا سامنا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ ہم نے کیسے ردعمل کا اظہار کرنا ہے! حکمت اور دانشمندی کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی طور ہر ردعمل کا اظہار کرنا ہے۔ اپنے کردار اور عمل سے بطور مسلمان اپنی نمائندگی کرنی ہے۔
کمیونٹی کی ایک اور جواں سا ل رکن محترمہ اریحہ بتول نے کہا کہ امریکہ میں بطور مسلمان اپنی پہچان اور شناخت کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ فیملی کو جو چیلنج ہیں ، ان سے نبرد آزماہونے کے لئے ضروری ہے کہ سماجی اور سیاسی طور پر امریکی نظام کے قومی دھارے میں شامل ہوں۔ نئے سال کا میرا یہ عہد ہے کہ ایک اچھے شہری کے طور پر انسانیت کی خدمت کرنا ہے ، دوسروں کے کام آنا ہے ۔

تاریخ اشاعت : 2017-01-06 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock