قبل از وقت الیکشن

سیاسی عدم استحکام میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں ۔ ان قیاس آرائیوں کے ساتھ ساتھ ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بڑے دعوے بھی کئے جا رہے ہیں
 
سب سے بڑی قیاس آرائی اور دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ ممکن ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنی تیسری ٹرم بھی پوری نہ کر پائے اور جون میں اپنی مدت پوری ہونے سے قبل ہی اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں

 
اسلام آباد (پاکستانی نیوزپیپر)پاکستان میں سیاسی عدم استحکام میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں ۔ ان قیاس آرائیوں کے ساتھ ساتھ ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے بڑے دعوے بھی کئے جا رہے ہیں ۔ پاکستان میں اس وقت سب سے بڑی قیاس آرائی اور دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ ممکن ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنی تیسری ٹرم بھی پوری نہ کر پائے اور جون میں اپنی مدت پوری ہونے سے قبل ہی اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں جس کے نتیجے میں ملک میں قبل از وقت الیکشن ہو جائیں
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے حکومت اپنی مدت سے پہلے ہی ختم ہوجائے، انتخابات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ ن لیگ میں لوگ خود کو نواز شریف سے الگ کررہے ہیں۔اگر نمبر کم ہوگئے تو ن لیگ کی حکومت ختم ہوجائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت جاتی ہے تو 90دن میں انتخابات کرانے ہوں گے، انتخابات میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان میں شریف فیملی کے گرد انصاف کا گھیرا مسلسل تنگ ہے ۔ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو احتساب عدالت نے ہر پیشی پر حاضر ہونے سے مستثنیٰ قرار دیدیا ہے دوسری جانب حدیبیہ کیس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے وعدہ معاف گواہی سے منحرف ہونے پر ان کو دوبارہ ملز م قرار دے دیا گیا ہے او ر عدالت میں عدم پیشی پر ان کے وارنٹ جاری کر دئیے گئے ہیں اور عدالت کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ہے کہ انہیں گرفتار کرکے پیش کیا جائے ۔ دوسری جانب اسحاق ڈار لندن میں زیر علاج ہیں ۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں عدالت کی جانب سے سزا دی نہیں جا رہی بلکہ دلوائی جا رہی ہے ۔ 

تاریخ اشاعت : 2017-11-15 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock