میں پاکستانیوں کو امریکہ میں یہودی کمیونٹی کی طرح کامیاب دیکھنا چاہتا تھا،ڈاکٹر حفیظ ملک

 

پاکستانی امریکن کانگرس کو ماضی کی طرح فعال کریں ،ڈاکٹر ظہیر چوہدری، منتخب صدر کو دو سال انتظار میں رکھنا، ایک خاصا مضطرب عمل تھا،مینی عالم


مینی عالم پیک کے بارھویں صدر منتخب ہوئے ہیں جس سے یہ عہدہ بیس سال بعد ایک بار پھر پنسلوینیا لوٹ آیا ہے

 


فلاڈیلفیا(رپورٹ: برہان چوہدری) پاکستانی امریکن کانگریس کے شریک بانی ڈاکٹر حفیظ ملک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانیوں کو امریکہ میں یہودی کمیونٹی کی طرح کامیاب دیکھنا چاہتے تھے اور اسی بنیاد پر1990میں فلاڈیلفیا، شکاگو اور دیگر مقامات پر مقیم پاکستانی گروپوں کی مدد سے پاکستانی امریکن کانگریس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ 85 سالہ ڈاکٹر حفیظ ملک، ولانواہ یونیورسٹی کے سابقہ پروفیسر اور روس، پاکستان اور افغانستان کے سیاسی امور کے ماہرہیں اور ان عنوانات پر لکھی گئی کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔


 رمضان المبارک کی مصروفیات کے پیشنظر پاکستانی امریکن کانگریس کے بارھویں صدرمینی عالم کی زیرقیادت 12 جون 2015 کوفلاڈیلفیاکے مقامی ریستوران میں مختلف پاکستانی امریکن جماعتوں کا اجتماع منعقد کیا گیا جس میں انکا کہنا تھا کہ چونکہ بطور صدر انکا انتخاب دو سال قبل 2013 میں ہوگیا تھا لیکن آئین کے تحت انکی صدارت کا آغاز 2015 میں ہوا ہے اور یہ عرصہ عوام اور میڈیا کیلئے شش و پنج کا عمل رہا ہے۔ انکے مطابق آئین کی اس شق پر دوبارہ نظرثانی کی ضرورت ہے۔


مینی عالم پیک کے بارھویں صدر منتخب ہوئے ہیں جس سے یہ عہدہ بیس سال بعد ایک بار پھر پنسلوینیا لوٹ آیا ہے۔


1997-1995 ڈاکٹر ظہیر چوہدری نے اس بات پر زور دیا کیا کہ وہ پاکستانی امریکن کانگریس کو ماضی کی طرح فعال دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے پاکستانی امریکن کانگریس کے بطوردوسرے صدر سالانہ پروگرام پر روشنی بھی ڈالی جس میں اس وقت کے 41 کانگریس مینوں نے شرکت کی تھی۔


اس موقع پرفلاڈیلفیا شہر کے سابق کنٹرولر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر مسٹر جانتھن سیڈل نے اپنے خصوصی خطاب میں شرکا کو اس بات کا یقین دلایا کہ وہ پاکستانی امریکن کمیونٹی کے خلاف کسی قسم کے بھی استحصال کو برداشت نہیں کریں گے اور انکے دروازے ہمیشہ دادرسی کیلئے کھلے رہیں گے۔

 


 

 

تقریب میں پاکستان سے آئے ہوئے سابق وفاقی وزیر جے سالک نے بھی خصوصی شرکت کی اور پاکستانی کمیونٹی کے امریکی سیاست میں کردار کو سراہا اور حوصلہ افزائی کی۔


مہمان لیڈر ڈاکٹرعمر فاروق نے اپنی مقامی جماعت کا تعلیم، عوامی تحفظ، صحت عامہ اور سیاسی آگاہی سے متعلق چار نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔

 

اس موقع پر انہوں نے اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے پرائمری الیکشن جیتنے والے امیدواروں کا ذکر بھی کیا ۔ اٹارنی رانا تاج، منظور چوہدری، اور انور خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

 

سائنس دان ڈاکٹر توصیف بٹ نے مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کو سیاسی قوت قرار دیا۔پروگرام کے اختتام کے موقع پر حاضرین کے لئے سوال و جوابات کی نشست کا اہتمام بھی کیا گیا جو کھانے کو دوران بھی چلتا رہا۔

 

 

مقررین کے علاوہ حاضرین میں تقی کمال، سلیم اختر، انجم بھٹی، محفوظ حیدری، صلاح الدین غازی، وکٹر گل، قمرالزمان، برہان چوہدری، اٹارنی ولیم کلیمنز، اظہر عباس، پیٹرک میر ل، خرم میر ل، امین گل، لوقا دتہ ، سائمن دتہ، شارون شہزاد ، انور حسین، گلفام سواتی، اسد چوہدری، رضوان ملک، محمد انور، ولیم، اسلم گوندل اور سلمٰی جان بھی شامل تھے ۔


مقامی جماعتوں میں پاکستانی امریکن سوسائٹی، کرسچن وائس آف پاکستان، پاکستانی کمیونٹی کلچرل آرگنائزیشن، پاکستانی امریکن کرسچن ایسوسی ایشن اور پاک امریکن یونائٹڈ لیگ آف پنسیلوینیا شامل ہیں۔

 

مہمان جماعتوں میں ساوتھ ایشین کمیونٹی آوٹ ریچ آف پنسیلوینیا اور کرسچن لیگ آف پاکستان ان امریکا شامل تھیں۔

تاریخ اشاعت : 2015-07-09 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں

SiteLock