قرآن و سنت کی شکل میں دین مستند شکل میں محفوظ ہے، جاوید احمد غامدی

نیویارک (خصوصی رپورٹ)الموردر کے بانی اور پاکستان کے معروف سکالر جاوید احمد غامدی نے کہا ہے کہ دین جو حضرت آدم ؑسے لیکر حضرت محمد مصطفیﷺ تک دیا گیا، یہ دین اسلام کہلاتا ہے۔دین اسلام ایک ہی ہے جسے حضرت محمد مصطفی ﷺ پر آکر مکمل کر دیا گیا ہے ۔اب اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی قران و سنت کی شکل میں دین اسلام مستند شکل میں قیامت تک محفوظ ہے اور رہے گا۔

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی امریکن کمیونٹی کی معروف سماجی و کاروباری شخصیت احسن رانجھا کی جانب سے اپنی رہائشگاہ پر دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کے دوران کیا جس میں کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مقامی شخصیات نے شرکت کی ۔


جاوید احمد غامدی نے خطاب اور سوالات کے جواب دییتے ہوئے مزید کہا کہ اللہ نے سب پیغمبروں ؑکو ایک ہی دین دیا تھا اللہ کے دین سے جو منحرف ہوئے انہوں نے اپنے فرقے بنا لئے اور جو تعلیمات الٰہی کے پابند اور پیرو کار رہے ، وہ دین بر حق ، دین اسلام کی راہ پر گامزن رہے۔ قرآن مجید نے رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے پیغمبر ہم نے وہی دین آپ کو دیا جو کہ حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیؑ، حضرت عیسیٰ ؑ کو دیا۔ اس پر قائم ہو جاو اور کوئی تفرقہ پیدا نہ کرو۔


انہوں نے مزید کا کہ اللہ کے دین اسلام کی ابتدا حضرت آدم ؑ سے ہوئی۔ یہ سب پیغمبروں کا دین ہے۔ یہ دین قیامت تک قائم رہے گا۔چنانچہ قرآن دین کی آخری کتاب ہے۔


جاوید احمد غامدی نے کہا کہ دین اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور پیغمبروں کے طریقے کی صورت میں ہم تک پہنچا۔ یہ روشنی اس لئے دی گئی تاکہ قیامت والے دن دین کے پیروکار سرخرو ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ موت اختتام نہیں بلکہ اس کے بعد کی زندگی ابدی ہو گی۔قرآن و سنت کی شکل میں دین مستند شکل میں محفوظ ہے۔


جاوید احمد غامدی نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعدکوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ کے بعد انسانوں نے دین کو سمجھا ہے۔ دین کو سمجھنے میں انسانوں کے مابین کچھ اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔جب یہ اختلافات پیدا ہوئے تو پھر انہوں نے مختلف شکلیں اختیار کر لیں لیکن واضح رہنا چاہئیے کہ اللہ کا دین صرف اور صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے دین اسلام ۔


انہوں نے مزید کہا کہ دین کی بنیاد قرآن اور سنت ہے، اگر کسی عالم کی دین سے متعلق بات کو پرکھنا ہو تو اس عالم سے پوچھ لیں کہ وہ کس کی بنیاد پر بات کررہے ہیں اور یہ بات پرکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔


شیعہ سنی مسلک کے بارے ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ اختلافات دینی بحث میں تبدیل ہو گئے ۔ اب لوگ اپنی جمعیت میں بہت دور چلے گئے۔ سیاسی اختلاف نے بدترین صورت اختیار کی ۔ شکر ہے کہ قرآن پر کوئی اختلاف نہیں۔ اختلافات کے حوالے سے شروع میںمکالمہ نہیں ہوا جس کے نتیجے میں خلیج بڑھتی گئی اور متعلقہ علماءنے بھی مکالمہ نہ ہونے دیا جس کی وجہ سے دیواریں اونچی ہوتی گئیں۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں تاریخ کو دین بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئیے ۔


ایک سوال کے جواب میں جاوید احمد غامدی نے کہا کہ میری کتاب میزان کا انگریزی ترجمہ ہوگیا ہے - اس میں اسلام کو جیسے میں نے سمجھا بیان کردیا ہے۔ تفسیر کی دو جلد شائع ہو چکی ہیں تیسری کا ترجمہ ہو رہا ہے۔


ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دین میں کوئی نئی بات نکالنے کو بدعت کہتے ہیں۔ قرآن میں کہا گیا کہ اب دین مکمل ہو گیا ہے۔ کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ سرکار نے کہا کہ اب اس دین میں کوئی نئی بات نہ نکالنا۔ ہر نئی بات بدعت ہوگی۔اللہ نے سب ہدایات دے دی اب عقل سے کام لو۔ انسان کو زندگی میں عقل و علم سے رہنمائی لینی ہے۔ اسی بات کو اجتہاد کہا جاتا ہے۔ اللہ کی بات عمل کے لئے ہے۔ کوئی بات انسانی عقل سے ماورا نہیں۔ جہاں بات سمجھ نہ آئے وہاں علماء کرام سے رجوع کریں۔


اعضاءکی پیوند کاری کے بارے ایک سوال کے جواب میںجاوید غامدی نے کہا کہ یہ خیر کا کام ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔یہ علاج کا جدید طریقہ ہے ۔
جاوید احمد غامدی نے کہا کہ امریکہ کو خدا کی نعمت سمجھیں۔ اگر یہاں شہریت حاصل کر لی ہے تو اس کو نعمت سمجھیں۔ اپنے اس ایڈاپٹڈ ملک میں وہ کردار ادا کریں کہ یہاں کے حکمرانوں جب آپ کے کاموں کے بارے میں معلوم ہو تو انہیںبھی آپ پر فخر ہو اور ساتھ ساتھ حکمرانوں کو ان اقدار کے بارے میں بھی یادہانی کرواتے رہیں کہ جو ان کے بانیان نے ملک بناتے وقت قائم کی تھیں ۔ ان اچھی روایات کو فروغ دینا چاہئیے ۔


ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ میں یا مغرب میں کوئی ایسی تقریب کہ جس میں کوئی شرک کی بات نہ ہو اور کوئی غیر اخلاقی بات نہیں ، اس کو منانے میں کوئی ہرج نہیں۔ذبیحہ گوشت کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جانور کو اللہ کے نام پر اگر مکینیکل طریقہ سے بھی ذبیح کیا جائے تو کوئی ہرج نہیں۔ بندہ خون نکلنا چاہئیے خون نہیں استعمال کرسکتے۔
جاوید احمد غامدی نے کہا کہ مارگیج شرعی طور پر ٹھیک ہے ۔ مورگیج دراصل ایک ہائر پرچیز ایگری منٹ ہے اور وہ لے سکتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی میں قرآن کو علم و عمل کا محور اور فیصلہ کن حیثیت کا حامل ہونا چاہئیے۔


جاوید احمد غامدی نے کہا کہ اللہ کا دین صرف اسلام ہے۔ باقی فرقے بنا لئے گئے۔ سب پیغمبر اسلام ہی لے کر آئے۔ لوگوں نے فرقے بنا لئے۔ اللہ نے جنت کے اصول بیان کردئیے ہیں۔


ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوفی ازم کو ایک فکر سمجھ کر مطالعہ کریں۔ اسلام اپنی ذات میں پورا ہے۔


نیویارک میں قیام کے دوران جاوید احمد غامدی نے جان جے کالج میں بھی ایک فکری نشست سے خصوصی خطاب کیا جس میں پاکستانی و مسلم امریکن کمیونٹی کے مقامی قائدین اور ارکان نے شرکت کی ۔ اس موقع پر انہوں نے دین اسلام اور دنیا کے تعلق کے حوالے سے تفصٰلی خطاب کیا اور قران و سنت کی روشنی میں اہم مسائل پر روشنی ڈالی اور اپنا نکتہ نظر بیان کیا۔

تاریخ اشاعت : 2017-10-04 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock