جعفریہ ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کے زیرر اہتمام نیویارک میں عاشور محرم کا جلوس ، فضاءیا حسین ؑ کے نعروں سے مسلسل گونجتی رہی

 

نیویارک (پاکستانی نیوز پیپر) جعفریہ ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ نے نیویارک ٹرائی اسٹیٹ ایریا کی مختلف شیعہ تنظیموں، انجمنوں اور ماتمی دستوں کے تعاون سے ہر سال کی طرح اس بار بھی عاشورہ محرم کے سلسلہ میں سالانہ جلوس بیادِ اسیران کربلا 24ستمبر بروز اتوار کو یہاں منعقد کیا۔ پارک ایونیو اور 50 اسٹریٹ مین ہیٹن سے شروع ہونے والا سالانہ جلوس اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا حسب معمول پاکستان قونصلیٹ کے سامنے جا کر اختتام پذیر ہوا جہاں مجلس عزا اور نوحہ خوانی کا انعقاد ہوا۔

 


 معروف مسلم سکالر و وکیل اہل بیت ڈاکٹر علامہ سخاوت حسین سندرالوی کی اقتدا میں پارک ایونیو پر نماز ظہرین ادا کی گئی جس کے بعد ڈاکٹر علامہ سخاوت حسین سندرالوی نے جلوس سے خطاب کرتے ہوئے عاشورہ محرم اور واقعہ کربلا کے حوالے سے خطاب کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں حضرت امام حسین ؑ اور ان کے جانثاروں کی عظیم قربانیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اسلام کو آج کے یزیدوں سے نمٹنے کیلئے حسینی کردار کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام امن وآشتی کا دین ہے ۔اسلام ہی وہ دین ہے جس نے خلق خدا کی خدمت اور بہبود کواللہ کی خوشنودی سے تعبیر کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ واہل بیت نبی ؑ نے دین اسلام کے اس آفاقی پیغام کو خلق خداتک پہنچانے کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ خصوصاً نواسہ رسول علیہ اسلام، جگر گوشہ بتول امام عالی مقام حسین علیہ السلام نے کربلا کی گرم ریت پر تین دن کی بھوک وپیاس میں ظالموں کے سامنے معرکہ آرائی کرکے خوشنودی رب کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔


جلوس کے اختتام پر مجلس عزا معروف شیعہ سکالر شیخ سلیم یوسف علی نے پڑھی اور فلسہ شہادت امام حسین ؑ اور واقعہ کربلا کے مختلف و اہم پہلوو¿ں پر روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر پاکستان سے آئے معروف نوحہ خواں سید صفدر عباس زیدی نے اپنے مخصوص انداز میں نوحہ خوانی کی ۔
پاکستان قونصلیٹ کے سامنے ہونے والے اجتماع کے دوران ماتم کیا گیا جبکہ مجلس عزا اور اجتماع میں نظامت کے فرائض جاوید حسین اور مائرہ حسین نے ادا کئے ۔قبل ازیں نماز ظہرین کی ادائیگی کے بعد جلوس پارک ایونیو سے روانہ ہوا جس میں ہزاروں عذداران حسین شریک ہوئے ۔ عذاداران پارک ایونیو سے لیکر 65سٹریٹ پر واقعہ پاکستان قونصلیٹ تک ماتم ، عذادار ی کرتے رہے جبکہ نوحہ خواں امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین ؑ سمیت شہداءکربلا کو خراج عقیدت پیش کرتے رہے ۔


نیویارک سٹی کی جانب سے جلوس کی گذرگاہ پر ٹریفک کو کنٹرول کرنے سمیت دیگر تمام انتظامات کئے گئے تھے ۔


جلوس میں شرکاءنے علم بلند کر رکھے تھے جبکہ شبیہ روضہ مبارک امام حسین ؑ بھی شامل تھی ۔جلوس نے تقریباً ایک میل سے زائد کی مسافت چار گھنٹوں میں طے کی ۔ اس دوران جلوس گذرگاہ کے اطراف میں موجود امریکی مقامی شہریوں کی مسلسل توجہ جلو س کا بھی باعث بنا رہا ۔


پاکستان قونصلیٹ کے سامنے پہنچنے کے بعد مجلس عزا و اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جعفریہ ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکہ کے اصطفیٰ نقوی نے کہا کہ فیک (جعلی) نیوز بنانے والے اور اسلامو فوبیا کو ہوا دینے والے دین اسلام جو کہ دین انسانےت اور دین حق ہے ، کو بدنام کرنے اور دنیا کو گمراہ کرنے کی جو کوشش کرتے ہیں ، وہ اور ان کے پیرو کار بالآخر ناکام ہونگے ۔انہوں نے اپنے خطاب میں روہنگیا کے مسلمانوںپر ہونیوالے مظالم کی جانب بھی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کے خلاف انسانیت کے چیمئین کے الفاظ نہیں ایکشن کی ضرورت ہے ۔


اصطفیٰ نقوی نے مزید کہا کہ طالبان ، القائدہ ، داعش سمیت انسانیت کی دشمن جماعتوں کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ بتانے کی بھی ضرورت ہے کہ ان گروہوں کو اسلحہ کون دیتا ہے ؟ن کے پس پردہ ہاتھوں کو بھی بے نقاب کیا جانا چاہئیے ۔ اصطفیٰ نقوی نے مزید کہا کہ سیدنا امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات کیا ہیں ؟ان کی تعلیمات حق و سچ پر قائم ہوجانا ، انسانیت کی اعلیٰ اقدار اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو تسلیم کرنا ہے ۔ رسولﷺ خدا نے جب مکہ فتح کیا تو کوئی ایک قتل بھی نہیں ہوا۔دیں اسلام میں ہمیں انسانیت ،امن اور انسانی حقوق کا درس دیا جاتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ امام علیہ السلام کربلا اس کئے گئے کہ یزید نے اسلام کو ہائی جیک کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ امام پاک ؑ نے دنیا اور کل جہان کو بتادیا کہ اسلام کیا ہے؟ ہمیں امام حسین علیہ السلام کے نقش± قدم پر چلنا ہے۔ اصطفیٰ نقوی نے کہا کہ مذہب اسلام آج بھی مٹھی بھر انتہا پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں بھی مسلمانوں کی جنگ اُن نام نہاد مسلمانوں کے خلاف تھی جو اسلام کو یرغمال بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کو امر کیا۔ آج ایک بار پھر اسی قربانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان پرامن ہیں ہمیں انتہا پسند نظریئے کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔


معروف سکالر شیخ سلیم یوسف علی نے کہا کہ امت مسلمہ میں امام عالی مقام سیدنا امام حسین ؑ کے دور میں جب قیادت کا بحران پیدا ہوا اور دین محمدی کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی تو امام ؑ کو تشویش ہوئی ۔ انہیں کسی بھی صورت یہ قبول نہیں تھا کہ آقا دو جہاں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے دین اسلام ، دین برحق جو کہ عالمگیر دین انسانیت اور دین انصاف ہے ، کے قیامت تک قائم رہنے والے اصولوں میں کوئی کمی بیشی ہو۔ لہٰذا امام حسین ؑ اپنے اہل بیت ؑ اور اصحاب کے ساتھ ایک قافلہ کے ساتھ کوفہ کی جانب روانہ ہوئے ۔ یزیدی فوج نے ان کا راستہ کربلا کے میدان میں روکا۔ وہ دو محرم کو پہنچے اور آٹھ روز تیس ہزار فوجیوں کا مقابلہ کیا اور دس محرم کو شہادت کا واقعہ پیش آیا۔اہل بیت ؑکے ارکان نے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے انسانیت ، انصاف اور حق و سچ کے دین اسلام کو بچایا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں حضرت سیدنا امام حسین ؑکی قربانیوں سے سبق سیکھنا چاہئیے۔ امام کی قربانی سب سے عظیم ہے۔ ان کی قربانی سے دوسرا بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ ”سٹیٹس کو“ چیلنج کرنا ہے یعنی کہ جب عدل و انصاف کی بات ہو تو اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امام علیہ اسلام کے فلسفہ شہادت کی روح کو زندگی کا نصب العین بنانا ہوگا۔ امام کا درس ہے کہ قول کے ساتھ فعل لازم ہے۔ شیخ سلیم یوسف علی نے اپنے انگریز ی خطاب میں مزید کہا کہ میدان کربلا میں امام نے یہ کال دی تھی کہ اپنے ہر لمحہ کو حسینی بن کر گذارو۔ آپ کی دنیا و آخرت دونوںسنور جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ تاریخ انسانیت گواہ ہے کہ امام حسین ؑاور ان کے رفقاءکرام کی عظیم المثال قربانی اور اس معرکہ کے درمیان امام حسین ؑنے اپنے جد رسول کریمﷺ کے اخلاق حسنہ کی جو مثال قائم کی ہے وہ انسانیت کے لیے حیات جاویداں بن گئی ہے۔


معروف نوحہ خواں سید صفدر عباس زیدی سمیت دیگر نوحہ خوانوں نے نوحہ خوانی کی، انہوں نے پرسوز انداز میں کربلاکے شہیدوں کو شاندار الفاظ میں خواج عقیدت پیش کیا۔ ان کی نوحہ خوانی نے سوگواران حضرت امام حسینؑ کو غمگسار کر دیا اور مجمع میں رقت طاری ہو گئی۔


جلوس میں الحسین نماز کمیٹی کی جانب سے نمازوں کی صفوں اور دیگر انتظامات کئے گئے تھے۔ شبیہ روضہ امام حسینؑ، علم، تعزیئے بھی برآمد ہوئے۔ ماتمی دستے راستے بھر ماتم کرتے رہے جبکہ نوحہ خوان نوحہ خوانی اور سوز و سلام پیش کرتے رہے۔
جلوس میں مختلف تنظیموں اور افراد کی جانب سے راستے بھر پانی، چائے اور مشروبات کی سبیلیں لگائی گئی تھیں جبکہ لنگر کا بھی اہتمام تھا۔ منتظمین نے جلوس کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لئے نیویارک پولیس اور سٹی انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے جلوس کے منتظمین کے ساتھ مثالی تعاون کیا۔ منتظمین نے مومنین و مومنات اور لنگر حسینی اور سبیلیں لگانے والوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ اصطفیٰ نقوی نے قونصل جنرل راجہ علی اعجازکا خاص طور سے خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے قونصلیٹ میں عزاداروں کے لئے حسب روایت خصوصی انتظامات کئے۔


٭٭٭

تاریخ اشاعت : 2017-07-26 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock