’’محنت میں عظمت‘‘ غریب پاکستانی ‘امریکا کا 163واں امیر ترین شخص بن گیا

شاہد خان 18 جولائی1952ء کو لاہور کے ایک متوسط گھرانے میں پیداہوئے‘ والد وکالت کرتے تھے اوروالدہ علم کی دولت سے قوم کے معماروں کو سنوار رہی تھیں۔شاہدکے دادا کا شمار امراء میں ہوتا تھامگر انہوں نے وقتاً فوقتاً سات شادیاں کر ڈالیں۔ ان شادیوں سے پچاس سے زائد بچے پیدا ہوئے اورا ن میں سے ایک شاہد خان کے والد بھی تھے۔

 

دادا فوت ہوئے تو ان کی جمع پونجی اور جائیداد تقسیم ہوئی تو یہ تقسیم ہی ہوتی چلی گئی‘ وہ دولت اور وہ جائیداد جس کا صرف ایک شخص اکیلا مالک تھا اب یہ پچاس چھوٹے چھوٹے ٹکروں میں بٹ گئی۔

3

 

شاہد خان کی والدہ ناز و نعم سے پلیں‘ والدہ نے انہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی‘ یہ کھلے دماغ کی روشن خیال خاتون تھیں اور مضبوط اعصاب کی مالک تھی۔ یہ بچپن سے نوجوانی تک لاہور کی سڑکوں پر سائیکل بھی چلاتی رہیں۔کھلے دل و دماغ کے مالک والدین کا بیٹا ہونے کی وجہ سے شاہد خان بچپن میں ہی دلیر اور مہم جوتھے ‘ یہ صرف تیرہ برس کے تھے تو بوائے اسکاؤٹس جمبوری میں حصہ لینے ایتھنز پہنچ گئے‘ انہو ں نے بسوں و ریلوں پر سفر کیا اور کیمپوں خیموں اور ہوسٹلوں میں قیام کرتے رہے۔ اس سفر نے شاہد خان کو کم عمری ہی میں تجربے کار باشعور اور بالغ بنا دیا۔

 

7

 

1968ء میں میٹرک کرنے کے بعد انہو ں نے بیرون ملک تعلیم پانے کا فیصلہ کیا۔ وہ دنیا کے بہترین انجینئرنگ کالج میں پڑھنا چاہتے تھے۔ والدین اس فیصلے میں رکاوٹ نہ بنے تاہم چہیتے بیٹے کو یہ ضرور باور کرا دیا کہ وہ بیرون ملک اس کی زیادہ مالی مدد نہیں کر سکیں گے‘ اسے خود ہی اپنے قدموں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ جرات مند شاہد خان نے یہ چیلنج قبول کرلیا‘ انہو ں نے داخلے کیلئے امریکا و یورپ کی متفرق یونیورسٹیوں کو خطوط لکھے۔ امریکی الینائے یونیورسٹی کے انجینئرنگ کالج میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا۔ وہ دسمبر1968ء میں سولہ سال کی عمر میں ریاست الینائے کے شہر شیمائن پہنچے اور تعلیم کا سلسلہ شروع کر دیا۔

 

6

 

ابتدائی دنوں میں ہی پے درپے پیش آنے والے تلخ واقعات نے شاہد خان کو باور کرا دیا کہ امریکا میں زندگی اتنی رنگین مزاج اور سہل نہیں جتنی وہ سمجھ رہے تھے‘ جب وہ بس سے شیمپائن کے مقررہ اسٹاپ پراترتے تو برف کی22انچ موٹی تہہ ان کی منتظر ہوتی‘ اس برس علاقے میں ریکارڈ برف باری جاری تھی اور اس نے معمولات زندگی معطل کر دئیے تھے۔ان کے پاس برف سے نبرد آزما ہونے کیلئے جوتے تھے نہ کپڑے‘ ابتدائی دنوں میں ہی جوتے پھٹ گئے لیکن اس کے باوجود شاہد خان کے جذبے ٹھنڈے نہ ہوئے ۔ برف باری کی وجہ سے کالج بند تھا چنانچہ سرچھپانے کے لئے سٹوڈنٹ یونین کے ہوسٹل کا رخ کرنا پڑا ۔ وہاں انکشاف ہوا کہ ایک رات کا کرایہ نو ڈالر ہے۔ ان کے پاس موجود رقم چنددن میں کرائیوں پر صاف ہو جاتی چنانچہ انہوں نے نئے ہاسٹل کی تلاش شروع کر دی‘ کسی نے بتایا وائے ایم سی اے ہوسٹل میں فی رات کرایہ دو ڈالر ہے چنانچہ یہ اس ہاسٹل منتقل ہو گئے۔

 

4

 

شاہد خان اپنے روز مردہ اخراجات پورے کرنے کی خاطر جزوقتی ملازمت کرنا چاہتے تھے۔ پڑھائی کا بیشتر خرچ تو والدین نے اپنے ذمے لے لیا تھا لیکن کھانے پینے اور رہنے کا خرچ انہوں نے خود پیدا کرنا تھا۔ خوش قسمتی سے انہیں ابتدائی دنوں میں ہی ایک یونانی ہوٹل میں برتن دھونے کی ملازمت مل گئی۔ تنخواہ فی گھنٹہ1.20 ڈالر تھی۔ یوں نووارد نوجوان پاکستانی کی عملی زندگی کاآغاز ہوگیا۔


شاہد خان کوجلد ہی احساس ہوگیا انسان کو اس کی محنت کے مطابق پھل ملتا ہے‘ امریکی معاشرے میں کرپشن اقربا پروری اور قانون شکنی کا چلن نہ تھا۔ ہر شخص استحقاق( میرٹ) اور اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر ہی ترقی کرتاہے۔شاہد خان لچکدار شخصیت رکھتے ہیں لہٰذا وہ جلد امریکی معاشرے میں جذب ہو گئے‘ نیز جزوقتی ملازمتیں کر کے اپنے روزمرہ اخراجات پورے کرتے رہے۔1970ء کے موسم گرما میں انہیں ایک معقول ملازمت مل گئی۔ انہیں ایک آئس کریم پارلر میں منیجر کی نوکری شروع کر دی ‘ اسی دن ایک انجینئرنگ فیکٹری فلیکس این گیٹ سے بھی ان کو پروانہ ملازمت موصول ہوا‘ وہاں انہیں زیرتربیت انجینئر ملازمت کرنا تھی۔اب شاہد مخمصے میں پڑ گئے کہ کس نوکری کو ترجیح دی جائے۔ آئس کریم پارلر کی نوکری صاف ستھری اور پرسکون تھی ۔ وہ کوٹ پینٹ میں ملبوس ہو کر اپنے ائرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھتے۔


دو سال قبل برتن دھوتے ہوئے وہ ایسی پرکشش ملازمت کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ دوسری سمت فلیکس این گیٹ میں کاروں کے پرزہ جات خصوصاً بمپر بنتے تھے‘ وہاں انہیں بیشتر وقت تپتی بھٹیوں اورویلڈنگ مشینوں کے سامنے گزارنا تھا۔گویا فلیکس این گیٹ میں کام سخت تھا مگر شاہد نے اسی کام کو ترجیح دی کیونکہ وہ اپنے مقصد کو پورا کرنا چاہتے تھے‘ ان کی تمنا تھی کہ وہ انڈسٹریل انجینئر بن جائیں چنانچہ انہوں نے آئس کریم پارلر کی مالکہ سے معذرت کی اور فیکٹری پہنچ گئے۔


1971ء میں آخر کار شاہد خان کا ایک خواب پوراہوگیا‘ انہوں نے انڈسٹریل انجینئرنگ میں بی ایس سی کرلیا۔ اب فلیکس این گیٹ ہی نے انہیں بحیثیت ڈائریکٹر انجینئرنگ بھرتی کرلیا۔ مالکان جان گئے تھے کہ یہ پاکستانی محنتی قابل و دیانت دار اور مخلص ہے۔شاہد خان نے بڑی جانفشانی اور خلوص سے اپنی ذمے داریاں نبھائیں ۔ جب کچھ رقم جمع ہوئی تو ایک کار خریدی۔

 

نوجوانی میں وہ تیز رفتار کاروں کے شوقین تھے۔ پھر گھر بنایا اور ایک امریکی دوشیزہ این سے شادی کرلی۔ این بھی الینائے یونیورسٹی کی طالبہ تھیں۔ ان کا رومان دس برس تک چلا اور کامیاب ثابت ہوا۔ان کے ہاں ایک بیٹا ٹونی خان اور ایک بیٹی شناخان پیدا ہوئے مگر شاہد خان اور ان کی بیوی این نے انہیں بھی حد سے زیادہ آرام و آسائشات نہیں دیں بلکہ یہ ترغیب دی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ترقی کریں۔اسی باعث پڑھ لکھ کر دونوں بچے مختلف اداروں میں ملازمتیں کرتے رہے۔

 

2
1978ء تک شاہد خان کے پاس اچھی خاصی رقم جمع ہو گئی۔ان کے پاس کاروں کے پرزہ جات کا بیش بہا تجربہ تھا چنانچہ اسی سال انہوں نے جمع پونجی(16ہزارڈالر) اور50ہزار ڈالر قرض کی مدد سے اپنا چھوٹا سا کارخانہ بمپرورکس قائم کرلیا۔ اس زمانے میں سٹیل کے دس بارہ ٹکڑے جوڑ کرگاڑیوں کے بمپر بنتے تھے۔ شاہد نے اپنی ذہانت سے یہ کارنامہ دکھایا کہ مضبوط پلاسٹک سے صرف ایک جوڑ والے ہلکے پھلکے بمپر ایجاد کر لئے۔تاہم شروع میں امریکی کار ساز اداروں نے بمپر ورکس کی نئی ایجاد پہ توجہ نہ دی بلکہ اسے مسترد کر دیا۔

 

شاہد خان کی خوش قسمتی کہ اسی زمانے میں جاپانی کاریں امریکہ آنے لگیں جو بمپر کے بغیر ہوتیں یعنی گاڑیوں کے بمپر امریکی سرزمین پر نصب کئے جانے تھے۔شاہد خان نے جاپانی کارساز کمپنیوں سے رابطہ کیا‘ وہ چاہتے تھے کہ جاپانی گاڑیوں میں ان کی کمپنی کے تیار کردہ بمپر لگائے جائیں ‘کئی رکاوٹیں طے اور مشکلات برداشت کرنے کے بعد آخر انہیں کامیابی ملی ۔مگر اس بڑی کامیابی کے باجود آفتوں کا دور ختم نہ ہوا‘مالکان فلیکس این گیٹ نے سابق ملازم کو پھلتے پھولتے دیکھا تو حسد کی آگ میں جل اٹھے‘ انہوں نے بمپر ورکس پر یہ کہہ کر مقدمہ ٹھونک دیا کہ کمپنی نے ان کے تجارتی راز چرائے ہیں۔ یوں قدم جماتے ہی شاہد خان کو نئی مصیبت نے گھیر لیا۔امریکی مالکان کو یقین تھا کہ شاہد خان مہنگا وکیل نہ کرنے کی وجہ سے مقدمہ ہار جائیں گے مگر جوشیلے شاہد نے مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ حاسد امریکیوں سے شکست نہیں کھائیں گے اور اپنا مقدمہ خود لڑنے لگے۔ وہ صبح کاروباری معاملات دیکھتے اور پھر رات گئے تک قانونی کتب پڑھنے میں جتے رہتے۔

 

اس دوران مالکان پہ خدائی عذاب نازل ہوا اور فلیکس این گیٹ زوال پذیر ہو گئی۔ اسی لمحے شاہد خان نے ایک اور خطرناک فیصلہ کرلیا‘ انہوں نے 1980ء میں قرض لے کر فیکٹری خرید لی یوں شاہد اس کمپنی کے مالک بن گئے جہا ں کسی زمانے میں محض ملازم تھے مگر ڈوبتی کمپنی کو دوبارہ مستحکم کرنا محنت شاقہ سے ہی ممکن تھاچنانچہ شاہدنے خوب محنت کی اور آج فلیکس این گیٹ امریکاکی120ویں بڑی کمپنی بن چکی ہے۔ اس میں13ہزار مردوزن ملازمت کرتے ہیں نیز اس کے باون کارخانے امریکا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں۔یوں شاہد خان آج امریکا کے163ویں اوردنیا کے490ویں امیر ترین شخص ہیں جبکہ یہ امریکی کھیلوں کی دنیا میں بھی اپنا سکہ جما چکے ہیں‘ وہ اس وقت امریکی فٹ بال کی نمایاں ٹیم جیسکن جیگو ارز اور فٹ بال کی برطانوی ٹیم فہلم کے مالک بھی ہیں۔

 

1

 

شاہد خان کی کامیاب روداد زندگی سے تین باتیں اخذ ہوتی ہیں ‘ایک اگر سخت محنت سے کام کیا جائےدو مقصد اور لگن سے کام کیا جائے اور تین ذہانت سے کام لیا جائے تو کامیابی زندگی کے قدم چومتی ہے۔ اس میں شک نہیں خوش قسمتی بھی انسان کی کامیابی میں کلیدی کردار کی حامل ہے لیکن یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ انسان کو یہ کامیابی اسی وقت ملتی ہے جب وہ سخت محنت کرے۔ اگر انسان محنت کو اپنا شعار بنالے تو کامیابی اس کا مقدر بن کر رہتی ہے۔ اگر شاہد خان 500ڈالر سے تین ارب نوے کروڑ ڈالر مالک بن سکتے ہیں‘ ان کی زندگی میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے تو آپ کی زندگی میں کیوں نہیں؟ یہ سوال ہمیں ایک بار اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہئے۔

تاریخ اشاعت : 2015-04-21 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock