بین العقائد ڈپلومیسی کے ذریعے امن کے پیغام کو مسلسل آگے بڑھائیں گے ؛ نیویارک میں رحمت الللعالمین ڈے

 

نیویارک (محسن ظہیر سے) دنیا میں جہاں آزادی اظہار کی حد اور عقائد کے احترام کے موضوعات زیر بحث ہیںوہاں نیویارک کی مختلف عقائد سے تعلق رکھنے والی کمیونٹیز نے بین العقائد مکالمے، ڈپلومیسی اور باہمی افہام و تفہیم سے چیلنجوں سے نبر دآزما ہونے پر زور دیا ہے ۔


نیویارک کے علاقے جیکسن ہائٹس پر حسب روایت اس سال بھی نبی کریم حضرت محمد مصطفیﷺ کے میلاد پاک کے حوالے سے رحمت الللعالمین ڈے ،ایک بین العقائد مکالمے کی شکل میں منایا گیا۔سکھی تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں پاکستان سے خصوصی طور پر مفتی اعظم پاکستان، چئیرمین روئیت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کے علاوہ مسیحی، یہودی، ہندو سمیت دیگر عقائد سے تعلق رکھنے والے قائدین شریک ہوئے ۔ان قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی کو کسی دین یا عقیدہ کی بنیاد پر تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی اجازت ہونی چاہئیے اور نہ ہی کسی کو آزادی اظہار کی آڑ میںکسی کے حساس مذہبی جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئیے ۔


تیسرے سالانہ رحمت الللعالمین ڈے کے انعقاد میں سکھی تنظیم کے علاوہ نیویارک سٹی کے کونسل مین ڈینئل ڈروم اور سپرچیول یونائیٹڈ نیشنزنے کلیدی کردار ادا کیا ۔تیسرے سالانہ رحمت الللعالمین ڈے ہوسٹ کمیٹی کے چئیرمین شیخ توقیر الحق تھے جبکہ کمیٹی شبیر گل، افضل گلبہار، خاور بیگ، چوہدری عامر رزاق ، نعیم بٹ اور راجہ رزاق پران پر مشتمل تھی ۔تقریب سکھی کی صدر محترمہ شازیہ کوثر کی صدارت میں منعقد ہوئی ، آغا صالح نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ۔


تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ امریکہ، اہل مغرب اور دنیا نے دہشت گردی ، انتہا پسندی ، منافرت اور تشدد کے خلاف عالمی سطح پر ایک مہم چلائی ہوئی ہے ۔ان کی یہ کوششیں اس وقت ناکام ہو جاتی ہیں کہ جب مغرب ممالک میں آزادی اظہار کی آڑ میں امن و محبت کی تعلیم دینے والے دین اسلام اور پیغمر اسلام نبی کریم حضرت محمد مصطفیﷺ کے بارے میں گستاخانہ خاکے شائع کئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری مذکورہ سارے کام محض دکھاوے کے لئے نہیں کررہی اور وہ واقعی دنیا سے دہشت گردی، شدت و انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتی ہے تو انہیں ان اسباب کا خاتمہ بھی کرنا ہوگا کہ جس کے نتیجے پر رد عمل پیدا ہوتاہے ۔


کونسل مین ڈینیل ڈروم نے خطاب اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں کونسل مین بننے سے پہلے بھی پیغمر اسلام حضرت محمد ﷺ کی میلاد کی تقریبات میں شریک ہوتا تھا۔ڈائیورسٹی پلازہ ، نیویارک پر رحمت الللعالمین ڈے منا کر سب عقائد کے احترام، رواداری، تحمل اور بھائی چارے کا پیغام دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام ایک خوبصورت دین ہے ، یہ امن و محبت کا دین ہے ۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا پیغام بھی امن اور محبت کا پیغام ہے ۔ ہمیں ایسے مواقع پر ان کے پیغام کو نیویارک سٹی سمیت دنیا میں عام کرنا چاہئیے ۔مسلم کمیونٹی کو ان کی تعلیمات کو دوسروں کیساتھ شئیر کرنا چاہئیے ۔کونسل مین ڈروم نے کہا کہ میں کونسل مین بننے سے پہلے سکول ٹیچر تھا۔ میں ایک عیسائی ہوں۔ سکول میں کرسمس کے دوران مسلم بچے بھی مجھے کرسمس پر تحائف دیتے تھے ۔کرسمس حضرت عیسی ؑ کی سالگرہ کا دن ہے اور میلاد النبی پیغمر اسلام حضرت محمد ﷺ کی سالگرہ کا دن ہے ۔ہم سب مل کر اپنے ماننے والوں کے دن اس عزم کیساتھ مناتے ہیں کہ ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے دنیا میں امن اور محبت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔


بین العقائد ڈپلومیسی انیشی ایٹو کے مصنف اور سکھی تنظیم کے بانی آغا صالح نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف وہ مسلم ممالک کہ جہاں انتہا اور شدت پسند عناصر قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں، ان ممالک کے حکمرانوں کو ذمہ دار ٹہرانا چاہئیے اور دوسری طرف مغرب کی ترقی یافتہ اقوام کے سربراہان حکومت بھی ذمہ دار ہیں کہ جن کے سامنے بعض شرپسند لوگ آزادی اظہار کی آڑ میں لوگوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تشدد کی ایک لہر پیدا ہوتی ہے ۔ہم ہر قسم کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ پر زور ڈالتے ہیں کہ وہ مذکورہ دونوں صورتحال کا نوٹس لےکر دنیا میں قیام امن کے لئے اقدام کرے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں پیغمر اسلام حضرت محمد مصطفی ﷺ کو ماننے والے لوگوں کی تعداد ایک ارب ساٹھ کروڑ ہے ، ان کو چند ایک انتہا پسند عناصر کے ذاتی و گمراہ کن اقدام کا ذمہ دار ٹہرایا نہیں جا سکتا۔ اسی طرح اگر چند ایک افراد آزادی اظہار کے حق کا غلط استعمال کریں تو اس کا ذمہ دار بھی اس اکثریت کو نہیں ٹہرایا جا سکتا کہ جو آزادی کیساتھ ذمہ داری پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔


رحمت الللعالمین ڈے ہوسٹ کمیٹی کے چئیرمین شیخ توقیر الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کا میلاد مبارک مناتے ہوئے مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ یہ اس عظیم ذات کا دن ہے کہ جو صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ سب عالموں اور انسانوں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے ۔ مجھے افسوس بات کا ہے کہ آج انسانیت کو وقار اور احترام کے حوالے سے اس کی معراج پر پہنچانے والے نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کئے جا رہے ہیں ۔یہ آزادی اظہار نہیں ، آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا بھی واضح الفاظ میں ذکر ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر بھی افسوس ہے کہ دین اسلام کے نام پر بعض لوگ تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ایسے گمراہ لوگ دین اسلام کی حقیقی تعلیمات کو ایک بار پھر بغور مطالعہ کریں ۔ آقائے کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ ، پوری انسانیت کے لئے رحمت بن کر آئے اور تاقیامت آپﷺ کی رحمت کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔


رحمت الللعالمین ڈے کے موقع پر نیویارک سٹی کونسل کی جانب سے مختلف مقاتب فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو بین العقائد مکالمے اور ڈپلومیسی کو فروغ دینے اور اس سلسلے میں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ایمبیسیڈر آف انٹر فیتھ ڈپلومیسی کے اعزاز سے نواز ا گیا ۔ ان شخصیات میں اقوام متحدہ میں انٹر فیتھ منسٹر شیرون ہملٹن گٹز، سفیر مسعود خان ، مصری سفارتکارمحمد فرغال ،اقوام متحدہ کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد منیر، قونصل جنرل پاکستان راجہ علی اعجاز، پرنسیس نسرین ال حشمت، ساو¿تھ ایشین کمیونٹی آوٹ ریچ کے شیخ توقیر الحق، برونکس کمیونٹی کونسل کے شبیر گل، اسلامک کمیونٹی آف سکاوٹنگ کے سید احتشام حیدر نقوی ، اسلامک ریسرچ انسٹیٹیویٹ کے مولان انور علی ، انٹر فیتھ انٹرنیشنل ، اقوام متحدہ کے چارلس گریو، انٹر فیتھ ڈپلومیسی انیشی ایٹو کی شریک مصنفہ فاطمہ بریاب، حوزہ علمیہ المہدی کے مولانا وسیم عباس، بزم نور مصطفی کی راحیلہ فردوس، بوائز سکاو¿ٹ آف امریکہ کے جان ریسٹوریپو،ایبی ڈراکر،نوسنترا فاو¿نڈیشن کے امام شمسی علی ،فری سنیگاگ کے ریبائے مائیکل وائزر، کوینز فیڈریشن آف چرچز کے ریورنڈ این جے لا ہاریکس جونئیر، بدہست کونسل نیویارک کے ریورنڈ ڈاکٹر ٹی کین جیوٹس ناکا گاکی، ہندو سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے ڈاکٹر امہ مائیرو سیکر،محمدئیہ سنٹر نیویارک کے امام قاضی قیوم، ہرپیت سنگھ تور ،ہیومینسٹ پارٹی کے ڈیوڈ اینڈرسن، انٹر نیشنل سیمیری فار انٹر فیتھ سٹڈیز کے ریبائے روجر راس، بھارت سیوا شرم سانگھا کے سوامی پر میشن ندا،سوکیو ماہی کاری سنٹر کے جارج ہیوسٹن، امام سید شیخ عبداللہ ال فوال، ڈاکٹر جمال اے ناصر ، جھلے سنگھ ، نیوفیوچر فاونڈیشن کی کوین مدر ڈاکٹر ڈی لاو¿زے بلاکلے ، انٹر فیتھ یوگی دلیپ کمار تھن کپن، گرینڈ ماسٹر ہمالیا زگرو دلیپ، یونیورسل پیس فیڈریش کے ریکارڈو ڈی سینا، انٹر نیشنل ریلی جس فیڈریشن فار ورلڈ پیس فرینک کاف مین، ریورنڈ باسٹا ریکا، ون سپرٹ انٹر فیتھ کی ریورنڈ سونیا کیچین، درویش آف شیخ فریحہ ال جیراحی کی این ماری زاہٹی اگوسٹا،شیخ توقیر الحق، چوہدری افضل گلبہار، شبیر گل، چوہدری عامر رزاق، نعیم بٹ ، راجہ رزاق پران، جسبی جے سنگھ، رتن تلوکدر(جنم بھومی نیویارک ویکلی)، کمال احمد (بنگلہ دیش سوسائٹی نیویارک)، ایم آر فرخ(پاکستان پوسٹ ) ، محسن ظہیر (صدائے پاکستان)، سلیم احمد ملک ،عارف افضال عثمانی ، فائق صدیقی (ٹی وی ون، دونشورو کالم نویس)،برینڈن فے ، ظفر قریشی (پاکستان ایکسپریس)، سید اصفر امام (وائس آف امریکہ ) اور سعید حسن (پاکولی ) کے نام شامل تھے ۔


کونسل مین ڈینئل ڈروم نے سکھی تنظیم کی چئیرپرسن محترمہ شازیہ کوثر کے ہمراہ بین العقائد ڈپلومیسی کے اعزاز حاصل کرنے والے تمام سفیروں کو اسناد پیش کیں اور انہیں مبارکباد دی ۔اس موقع پر اسناد حاصل کرنے والی تمام اہم شخصیات کو سکھی تنظیم کی جانب سے رحمت الللعالمین ڈے کی خوشی میں مٹھائی اور پھول بھی تقسیم کئے گئے ۔


یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال رحمت الللعالمین ڈے کے موقع پر انٹر فیتھ ڈپلومیسی انشی ایٹو کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی جس کو ڈرافٹ کرنے میں آغا صالح اور فاطمہ بریاب نے کردار ادا کیا ۔ اس قرارداد کو گذشتہ سال مارچ میں نیویارک سٹیٹ سینٹ میں سینیٹر سٹاوسکی کی کوششوں سے ریزولیش نمبر3913کے تحت ایڈاپٹ کیا گیا۔ مزید براں نیویارک سٹیٹ سینٹ کی جانب سے مذکورہ قرارداد کو امن اور ڈائیورسٹی کے فروغ کی کوششوں کے سلسلے میں شاندار الفاظ میں سراہا گیا۔


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختلف اہم شخصیات بالخصوص اسناد وصول کرنے والی شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے رحمت الللعالمین ڈے کے انعقاد کو یقینی بنانے والی تمام تنظیموں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب باہمی احترام اور اجتماعی کوششوں سے مشترکہ مقاصد کے حصول کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ایک رول ماڈل ہے ۔ نیویارک سٹی اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں ایسی کوششوں کا جاری رہنا ضروری ہے ۔
آخر میں شرکاءکے اعزازمیں ظہرانہ بھی دیا گیا ۔
 ۔

 

 


تیسرے سالانہ رحمت الللعالمین ڈے کے انعقاد میں سکھی تنظیم کے علاوہ نیویارک سٹی کے کونسل مین ڈینئل ڈروم اور سپرچیول یونائیٹڈ نیشنزنے کلیدی کردار ادا کیا ۔تیسرے سالانہ رحمت الللعالمین ڈے ہوسٹ کمیٹی کے چئیرمین شیخ توقیر الحق تھے جبکہ کمیٹی شبیر گل، افضل گلبہار، خاور بیگ، چوہدری عامر رزاق ، نعیم بٹ اور راجہ رزاق پران پر مشتمل تھی ۔تقریب سکھی کی صدر محترمہ شازیہ کوثر کی صدارت میں منعقد ہوئی ، آغا صالح نے نظامت کے فرائض انجام دئیے

تاریخ اشاعت : 2015-01-20 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں

SiteLock