سعودی عرب میں چاند دیکھنے کے تمام شرعی تقاضے پورے کئے جاتے ہیں ؛سعودی امام محمد عمرسراج عبدالرحیم

امریکہ کے دورے پر آئے امام جامع مسجد البر، ریاض (سعودی عرب) محمد عمر سراج عبدالرحیمسے اسلامی مہینوں بالخصوص حج ، ماہ رمضان، عید الفطر اور عید الالضحیٰ کی تاریخوں سے تعین کے حوالے سے خصوصی انٹرویو


انٹرویو مسجد بیت الکرم میں صاحبزادہ سید میر حسین شاہ ، مولانا محمد نعیم الدین الازہری اور ڈاکٹر عبدالواحد کے خصوصی تعاون سے کیا گیا، امام محمد عمر سراج عبدالرحیم نے مفصل انداز میں سعودی سسٹم واضح کیا


سعودی عرب میں حدیث مبارک اور شرعی تقاضوں کے مطابق لوگ چاند اپنی آنکھوں سے دیکھ کر شہادت مقامی گورنرز کو اور گورنرمرکزی ادارے کو بھیجتے ہیں جس کے بعد مرکزی طور پر چاند دیکھے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے


نیویارک (سپیشل رپورٹر سے )امریکہ کے دورے پر آئے امام جامع مسجد البر، ریاض (سعودی عرب) محمد عمر سراج عبدالرحیم سے ہفتے روزہ صدائے پاکستان نے مسجد بیت الکرم بروکلین کے مہتمم صاحبزادہ سید میر حسین شاہ ، امام مولانا محمد نعیم الدین الازہری اور معروف سماجی شخصیت ڈاکٹر عبدالواحد کے خصوصی تعاون سے بیت الکرم میں خصوصی انٹرویو کیا جس مسلم کمیونٹی میں حج، عیدین وغیرہ کے چاند دیکھنے اور سعودی نظام کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی ۔


امام محمد عمر سراج عبدالرحیم کے انٹرویو کا مکمل متن درج ذیل ہے
س؛ آپ کا پورا نام کیا ہے
ج؛ میرا نام محمد عمر سراج عبدالرحیم ہے۔
س؛ ہمیں کچھ اپنے بارے میں بتائیں
ج؛ میں سعودی شہری ہوں ۔ اپنی بیٹی جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہے ، کے علاج کے لئے امریکہ آیا ہوا ہوں اور گذشہ سات ماہ سے یہاں مقیم ہوں ۔میں گذشتہ سات سے زائد سالوں سے ریاض کی جامع البر کا امام ہوں ۔میں شریعت کا ایک طالب علم ہوں اور جو علم حاصل کرتا ہوں ، اسے دوسروں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہوں ۔
س؛ امام آپ نے رمضان المبارک کے دوران امریکہ کے دورے پر موجود ہیں ۔ یہاں بسنے والی مسلم بالخصوص پاکستانی کمیونٹی عیدین کے چاند کے مسلہ پر بہت کنفیوژ ہے ۔ آپ اس مسلہ پر کچھ روشنی ڈالیں پھر ہم آپ سے سعودی نظام کے بارے میں بات کریں گے
ج؛میں واضح کردوں کہ ہم سعودی عرب میں حضرت محمد ﷺ کی حدیث مبارکہ کے مطابق چاند دیکھے کے حوالے سے عمل کرتے ہیں ۔چاند دیکھ کر اسلامی مہینے کا آغاز کرتے ہیں اور چاند دیکھ کرمہینے کا اختتام کا فیصلہ ہوتا ہے
س؛ سعودی عرب میں آپ کیسے فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ پہلی تاریخ کا چاند ہے، اپنے نظام کے بارے میں بتائیں
ج: ہمارے ہاں لوگ اپنی آنکھ سے چناد دیکھتے ہیں۔ ملک میں ایسے علاقے ہیں کہ جہاں مخصوص مقامات پر چاند کے واضح نظر آنے کے امکان ہوتے ہیں ۔وہاں کے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی نظر بہت تیز ہے ۔ وہ صرف رمضان ، شعبان وغیرہ کئے دوران نہیں بلکہ پورے سال چاند دیکھتے ہیں ۔جب یہ لوگ چاند دیکھتے ہیں تو اپنے علاقے کے جج کے پاس جاتے ہیں جو کہ تسلی کرتا ہے کہ ان کی شہادت تسلی بخش اور قابل قبول ہے ، جج یہ بھی تسلی کرتا ہے کہ شہادت دینے والا پانچ وقت کا نمازی اور پرہیز گار انسان ہے ۔ پھر وہ شہادت اپنے گورنر اور گورنر مرکزی ادارے کو بھجواتا ہے ۔سعودی عریبیہ کے وسط میں ایک علاقہ الذلفی ہے اس علاقے کے ارد گرد ریت ہے لیکن یہ ٹاؤں ذرا اونچائی پر واقع ہے ۔اس علاقے سے آسمان کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔اس علاقے کے لوگو ں کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی نظریں بہت تیز ہیں ۔
س؛ جب اس علاقے کے لوگ چاند دیکھتے ہیں تو وہ کس کے پاس جاتے ہیں ؟
ج؛ جیسا کہ میں نے پہلے بتایاکہ چاند دیکھنے کی شہادت لیکر لوگ ہر صوبے میں متعلقہ قاضی (جج ) کے پاس جاتے ہیں جو کہ شہادت کے حوالے سے مکمل تسلی کے بعد اسے اپنے متعلقہ صوبے کے گورنر کو بھیج دیتا ہے ۔
س؛ کیا یہ لوگ دوربین کا استعمال کرتے ہیں
ج؛نہیں ، یہ لوگ اپنی آنکھوں سے چاند دیکھتے ہیں ۔ہر صوبے میں عصر سے لیکر عشاء تک روئیت کمیٹی بیٹھتی ہے ۔ 29شعبان کو ان کے پاس اگر کوئی چاند کی شہادت لیکر آئے تو وہ تسلی کرنے کے بعد سعودی عرب کی شریعت کے حوالے سے اعلیٰ ترین کونسل کو یہ شہادت بذریعہ گورنر بھجوا دیتے ہیں ۔وہ شہادتوں کا جائزہ لینے کے بعد اسلامی مہینے کے آغاز کا فیصلہ کرکے رائل آفس کو بھجوا دیتے ہیں جس کے بعد وزارت میڈیا کی جانب سے شاہی فرمان جاری کر دیا جاتا ہے ۔
س؛ اس سال عید کا اعلان کیس ہوا، کیا فیصلہ دو تین دن پہلے جاری کر دیا جاتا ہے
ج؛ نہیں ، انتیس یا تیس کو چاند دیکھنے کے بعد عید کا اعلان کیا گیااور ایسے ہر ہر سال ہوتا ہے ۔
س؛ جس دن عید ہو ،کیا امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کو اسی دن عید منانی چاہئیے
ج؛میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ سعودی عرب اور امریکہ کے دوران چھ سات گھنٹوں کا فرق ہے ۔یہ کوئی اتنا بڑا فرق نہیں ہے ۔میں امریکہ میں ہوں ۔ اس سال جس دن سعود ی عرب نے پہلا روزہ رکھا، اسی دن میں نے روزہ رکھا۔جمہور علماء کی رائے کہ کوئی اختلاف مطلع نہیں ۔ میں کہوں گا کہ مسلم کمیونٹی کو ایک کمیونٹی کے طور پر ایکٹ کرنا چاہئیے ۔
س؛ میں ایک مثال دوں کہ نیویارک میں کونی آئی لینڈ ایونیو ، بروکلین پر سٹرک کے ایک طرف روزہ تھا جبکہ سڑک کے پاس لوگ عید منار ہے تھے ۔ ہم کس کو صحیح اور کس کو غلط کہیں ؟
ج؛اصولی طور پر یہ ہونا چاہئیے کہ کسی ایک ملک میں مسلم کمیونٹی کو ایک دن روزہ رکھنا چاہئیے اور ایک ہی دن عید منانی چاہئیے ۔اسی کانام مسلم کمیونٹی ہونا چاہئیے ۔
س؛ امام آپ کی کیا رائے ہے کہ امریکہ میں بسنے والی مسلم کمیونٹی کو کیا کرنا چاہئیے کہ یہاں خود چاند دیکھ کر عید کرنی چاہئیے کہ یا دنیا میں کہیں چاند کی شہادت مل جانے کے بعد عید کا فیصلہ کر لینا چاہئیے ؟
ج؛پہلی بات یہ کہ انہیں مل بیٹھنا چاہئیے اور مسلم کمیونٹی کی حیثیت سے ایک مشترکہ فیصلہ کرنا چاہئیے ۔مقامی لوگ زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ اگر وہ فیصلہ کریں کہ ہم ایک مخصوص ملک کو فولو کریں گے ۔پھر وہ جس کو بھی فالو کریں، اس کو ہی فالو کریں۔
س؛ آپ ان لوگوں کے کیا کہی گے کہ جن کے ذہنوں میں یہ تاثر ہے کہ سعودی عرب میں چاند دیکھنے کا نظا م بہت فرسودہ ہے ، وہاں لوگ مخصوص تاریخ پر اسلامی مہینے کے اختتام یا آغاز کا فیصلہ کر لیتے ہیں ؟
ج؛ میں واضح کردوں کہ سعودی عرب میں ہم کیلینڈر کے مطابق تاریخ کا تعین نہیں کرتے بالخصوص حج ، رمضان اور عید کے مواقع پر ۔ہم چاند دیکھ کر تاریخ کا فیصلہ کرتے ہیں اور ایک موثر نظام کو فالوکیا جاتا ہے ۔یہ ہمارا نظام نہیں بلکہ ہم سنت اور نظام محمد ﷺ ہے جس پر ہم عمل کرتے ہیں ۔ یہاں میں واضح کردوں کہ بعض لوگ دنیا میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ جان بوجھ کو دین اسلام کے بار ے میں پروپیگنڈہ کے ذریعے غلط تاثرات پیدا کرتے ہیں ۔ ان غلط تاثرات کو دور کرکے ہمیں اپنے عمل سے دین کا صحیح چہرہ ہمیشہ دنیا کے سامنے رکھنا چاہئیے ۔
س؛ لوگ کہتے ہیں کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی چاند کی پہلی کا فیصلہ نہیں کر پائے،کیا ہمیں یو ایس نیوی سمیت ماڈرن سائنس کے وسائل کی مدد سے چاند کی تاریخ کا فیصلہ کرنا چاہئیے ؟
ج؛ ایک سپورٹنگ شہادت کے طور پر تو ٹھیک ہے لیکن حدیث مبارکہ پر عمل کرنا لازم ہے اور اپنی آنکھوں سے چاند کو دیکھنا ہوگا۔ ہم سعودی عرب میں ایسا ہی کرتے ہیں
۔

 

تاریخ اشاعت : 2014-07-26 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock