بلا تاخیر ڈیپورٹیشن ، امریکہ کا پاکستان سے معاہدہ کا مطالبہ

 

امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے ساتھ ایسے معاہدے پر دستخط کرے کہ جس کے تحت امریکہ میں موجود ایسے پاکستانی تارکین وطن کہ جنہیں ڈیپورٹ کیا جانا ہو، کی ڈیپورٹیشن کے تقاضوں کی بلا تاخیر تکمیل ہو
 

واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کو ایک میمو ارسال کیا گیا ہے، پاکستانی حکام مذکورہ میمو کے حوالے سے امریکہ حکام سے بات چیت شروع کریں گے ،میمو کا ڈرافٹ حال ہی میں پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے

 

پاکستانی کی ڈیپورٹیشن کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے متعلقہ تارکین وطن کے پاسپورٹ یا سفری دستاویز ات کے اجراءکو فوری اور بلا تاخیر یقینی بنایا جائیگا، مجوزہ معاہدہ

جس کو ڈیپورٹ کرنا مقصود ہو، کا اگر اسکاپاسپورٹ ، شناختی کارڈ ، برتھ سرٹفکیٹ جیسی کوئی دستاویز پیش کی جائے گی کہ جس سے اس تارکین وطن کی شہریت واضح ہوتی ہو تو اس کی فوری تصدیق کر دی جائے گی


نیویارک (خصوصی رپورٹ) امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے ساتھ ایسے معاہدے پر دستخط کرے کہ جس کے تحت امریکہ میں موجود ایسے پاکستانی غیر قانونی تارکین وطن کہ جنہیں ڈیپورٹ کیا جانا ہو، کی ڈیپورٹیشن کے مراحل میں حال بعض تقاضے ختم کر دئیے جائیں ۔اس سلسلے میں واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کو ایک میمو ارسال کیا گیا ہے ۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام مذکورہ میمو کے حوالے سے امریکہ حکام سے بات چیت شروع کریں گے ۔ اس مجوزہ میمو کا ڈرافٹ امریکی حکام کی جانب سے حال ہی میں پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے ۔
واضح رہے کہ امریکی قانون کے تحت اگر امریکہ میں موجود کسی تارکین وطن کو ڈیپورٹ کرنا ہوتو لازم ہے کہ جس شخص کو ڈیپورٹ کیا جانا ہو ، اس کے پا س اس کے ملک کا پاسپورٹ موجود ہو اور اس بات کا بھی واضح تعین ہو کہ ایسے شخص کا تعلق کس ملک سے ہے ۔امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی اور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے لئے لازم ہے کہ کسی بھی تارکین وطن کو ڈیپورٹ کرنے سے پہلے اس امر کو یقینی بنائیں کہ اس کا پاسپورٹ ساتھ موجود ہے ۔ باالفاظ دیگر یوں کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی تارکین وطن کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے تو اسے امریکہ سے ڈیپورٹ کرنے مشکل ہو جاتا ہے ۔
امریکی حکام کی جانب سے جو معاہدہ (میمو) تجویز کیا گیاہے ، اس میںتجویز کیا گیا ہے کہ امریکہ سے کسی بھی پاکستانی کی ڈیپورٹیشن کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے متعلقہ تارکین وطن کے پاسپورٹ یا سفری دستاویز ات کے اجراءکو فوری اور بلا تاخیر یقینی بنایا جائیگا۔میمو میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے (پاکستانی) تارکین وطن کہ جس کو ڈیپورٹ کرنا مقصود ہو، کا اگر پاسپورٹ جس کی معیاد موجود ہو یا ختم ہو گئی ہو ، یا شناختی کارڈ ، برتھ سرٹفکیٹ وغیرہ جیسی کوئی دستاویز پیش کی جائے گی کہ جس سے اس تارکین وطن کی شہریت واضح ہوتی ہو تو اس کی فوری تصدیق کر دی جائے گی ۔ اگر ہوم لینڈ سیکورٹی کو ایسے شخص کی کوئی دستاویز میسر نہیں ہوتی تو وہ اس کے فنگر پرنٹس پاکستانی حکام کو بھجوائے گا جن کی مدد سے وہ اس کی شناخت میں مدد کریں گے اور تیس دن کے اندر اندر ایسے شخص کو سفری دستاویز جاری کی جائیں گی اور اگر اس صورت میں کسی شخص کی شناخت نہیں ہوتی تب بھی تیس دن کے اندر اندر اس کے بارے میں آگاہ کیا جائیگا۔
۔

 

تاریخ اشاعت : 2017-11-29 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock