میرے بیٹے کا نام پولیس کیڈٹ کی حیثیت سے سانحہ گیارہ ستمبر کے ہلاک شدگان میں شامل کرکے اسے انصاف دیا جائے ؛ طلعت ہمدانی

 امریکہ بہت عظیم ملک ہے ، یہاں کی اقدار بہت اعلیٰ ہیں، یہ لوگ حقوق دیتے ہیں، ہم حقوق مانگنے والے تو بنیں ۔ جائز حقوق مانگنے کے لئے ڈرنا نہیں چاہئیے بلکہ آگے بڑھنا چاہئیے


 میں نے نیویارک کے پولیس کمشنر ریمانڈ کیلی اور مئیر بلوم برگ سے بھی کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں لیکن انہوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی؛ سلمان ہمدانی کی والدہ سے خصوصی انٹرویو

 


نیویارک (محسن ظہیر سے ) گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں میں اپنی جان کھونے والے پاکستانی امریکن سلمان ہمدانی کی والدہ طلعت ہمدانی کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے سانحہ میں میرے بچے سمیت جو بھی لوگ بے گناہ مارے گئے، وہ سب شہید ہیں ، میں ہمیشہ سب کے لئے دعا گو رہتی ہوں ۔ اس نمائندے کو دئیے گئے اپنے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہاکہورلڈ ٹریڈ سنٹر نیویارک پر حملے کے بعد میرے بیٹے کے اعضاءورلڈ ٹریڈ سنٹر کے نارتھ ٹاور سے ملے جہاں وہ متاثرین کی مدد کے لئے فرسٹ ریسپونڈنٹ کے طور پر پہنچا تھا لیکن اس نے دوسروں کو بچاتے ہوئے ، اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا۔

 

طلعت ہمدانی نے کہا کہ گیارہ ستمبر کی ہر برسی پر میںانصاف مانگتی ہوں۔ میرا بیٹا ، نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کا کیڈٹ تھا، اس نے اپنے آورز پورے نہیں کئے تھے اور اس دوران اس نے ایک میڈیکل انسٹیٹیویٹ میں جاب کر لی لیکن جب سلمان ہمدانی نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہوتے دیکھا تو وہ ایک کیڈٹ کے طور پر سب سے پہلے متاثرین کی مدد کے لئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں گیا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ مجھے شکوہ یہ ہے کہ نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے میرے بیٹے کا نام ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس فورس کے ارکان کے طور پر نہیں لکھا گیا اور اس کی اس حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ۔ اسی طرح نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کا گیارہ ستمبر کے حوالے سے جو میمورئیل ہے، اس میں بھی سلمان کا نام نہیں بلکہ اس کا نام ان لوگوںکے ساتھ لکھا گیا ہے کہ جو اس دن سنٹر میں ہلاک ہوئے ۔


طلعت ہمدانی نے کہا کہ میں نے نیویارک کے پولیس کمشنر ریمانڈ کیلی اور مئیر بلوم برگ سے بھی کہا کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں لیکن انہوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی، کمشنر کیلی کو تین خطوط بھی لکھے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، مئیر سے ایک بار بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ سلمان ، سویلین تھا، میں نے کہا کہ وہ ایک پولیس کیڈٹ تھا، اس کی اس حیثیت کو مانو ۔طلعت ہمدانی نے کہاکہ میرے بیٹا گیارہ ستمبر کے سانحہ کے بعد متاثرین کی مدد کو پہنچنے والے لوگوں میں سے ایک تھا، اس نے مدد کرتے کرتے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ، وہ ہیرو ہے ۔


طلعت ہمدانی نے کہا کہ میرے بیٹے کا نام نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک کیڈٹ کی حیثیت سے سانحہ گیارہ ستمبر کے ہلاک شدگان میں شامل کرکے اسے انصاف دیا جائے ۔ پاکستانی کمیونٹی انصاف کے حصول کی اس کوشش میں میرے ساتھ کھڑی ہو۔ امریکہ بہت عظیم ملک ہے ، یہاں کی اقدار بہت اعلیٰ ہیں، یہ لوگ حقوق دیتے ہیں، ہم حقوق مانگنے والے تو بنیں ۔ جائز حقوق مانگنے کے لئے ڈرنا نہیں چاہئیے بلکہ آگے بڑھنا چاہئیے ۔


ایک سوال کے جواب میں طلعت ہمدانی نے کہا کہ ہم کوینز میں 204سٹریٹ ، 35ایونیو، بے سائیڈ ، کوینز (نیویارک) پر رہتے تھے وہاں کی لوکل سٹیٹ سینیٹر اویلا نے گیارہ ستمبرکی برسی کے موقع پر پول پر میرے بیٹے کے نام پر پھول رکھے ہیں اور اسے یاد رکھا ہے ، میں ان کی مشکور ہوں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ میرے علم کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں تیمور خان نامی ایک اور پاکستانی بھی ہلاک ہوا تھا ، اس کی والدہ سے میری ایک بار بات ہوئی ، اس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔


طلعت ہمدانی نے کہا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے نارتھ ٹاور سے میرے بیٹے کے جو اعضاءملے تھے ، انہیں لانگ آئی لینڈ کے واشنگٹن میمورئیل قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ، وہاں ہی سلمان ہمدانی کے والد بھی دفن ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے اب ٹیچنگ کی نوکری دوبارہ کر لی ہے ۔ میں اپنے بیٹے کو اس کا جائز مقام دلانے کے لئے جدوجہد کرتی رہوں گی، کمیونٹی میرے ساتھ کھڑی ہو۔

تاریخ اشاعت : 2013-09-11 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں

SiteLock