کشمیر پر بھارتی افواج کا غاصبانہ قبضہ ، پاکستان قونصلیٹ نیویارک میں یوم سیاہ منایا گیا

 

نیویارک (محسن ظہیر سے ) ستر سال قبل کشمیرمیں بھارت فوج کے داخل ہونے اور مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے حوالے سے 27اکتوبر کے حوالے سے اس سال بھی پاکستان قونصلیٹ نیویارک میں یوم سیاہ منایا گیا اور اس سلسلے میں خصوصی تقریب منعقد کی گئی ۔قونصل جنرل راجہ علی اعجاز کی صدارت میں منعقدہ تقریب میں نظامت کے فرائض قونصلر کمیونٹی افئیرز حنیف چنا نے ادا کئے ۔ تقریب میں کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کے مقامی قائدین اور شخصیات نے شرکت کی ۔


راجہ علی اعجاز نے کہا کہ نیویارک دنیا کا اہم حصہ ہے۔ کشمیر کے حوالے سے دن منائے جاتے ہیں۔ انشاءاللہ کشمیر آزاد ہوگا۔ اس کاز کےلئے اپنی اگلی نسل کو تیار کریں تاکہ کل کو وہ جھنڈا بلند کریں۔

حنیف چنا نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ ہم کشمیری برادری کا دن مناکر ان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ کشمیر اور گلگت بلتستان میں قبروں پر سب سے زیادہ پاکستان کے جھنڈے نظر آتے ہیں۔ہم سب کے پاس پاور فل ٹول ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ آگاہی پیدا کریں۔

ڈاکٹر علامہ شہبازاحمد چشتی نے کہا کہ ایمان کا حصہ ہے کہ تم ظلم کو برا سمجھو اور اس کا راستہ روکو۔ ایمان کے لیول کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایمان وہ جذبہ پیدا کرتا ہے کہ جس سے دشمن کو شکست ہوتی ہے۔ انڈین کلچر کو مسلط نہیں ہونے دینا۔ جب قیادت باطل کی آنکھ میں آنکھے ڈال کر دیکھے گی تو وہ شکست سے دو چار ہوگا۔ نیویارک سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا ہاور فل میسج دیا گیا ہے آج۔
 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری ظہور اختر ، راجہ رزاق، خواجہ فارو ق، عظمی ٰ نے کہا کہ کشمیر کو اولین ترجیح دے کر اپنا فرض ادا کرنا چاہئیے۔ میڈیا کا زمانہ ہے۔اس کاز کو میڈیا پر±اجاگر کرنا چاہئیے۔ کشمیر میں سات لاکھ کی بجائے ستر لاکھ فوجی تعینات کرکے بھی کشمیریوں کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستںان کسی بھی حالت میں کشمیری بہن بھائیو کی سپورٹ سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ نیویارک دنیا کا کیپیٹل ہے۔ یہاں سرگرم کردار ادا کرنا چاہئیے۔

سردار تاج خان نے کہا کہ 1947میں بھارت نے کشمیر میں فوج بھیج کر سیاہ دور کا آغاز کیا۔ یہ دن اس وقت تک مناتے رہیں گے کہ کب تک یہ غاصب فوجیں واپس نہیں چلے جاتیں۔ ستر سال سے ظلم کا بازار گرم ہے۔ ان حالات میں کشمیری عوام اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستانی پرچم کو ہم سلام کرتے ہیں۔ پاکستان کے خلاف ہر سازش کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ پاکستان کے خلاف سازش کشمیر اور کشمیر کے خلاف سازش پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ ہم مودی کی ظالمانہ پالیسیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ مسلہ کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔

نسیم گلگتی نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کے جذبے اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ جم لوگوں نے شہادت کے جام نوش کئے ، ان کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔ ان کے خون سے آزادی کی شمع روشن ہے۔

گلگت بلتستان کی تاریخ بھی اہم ہے۔ آزادی کے دو ماہ کے بعد بھارت نے کشمیر میں فوج اتاری اور تین ماہ کے بعد گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج اور بھارتی فوج کو مار بھگایا۔ وہ دن دور نہیں کہ جب کشمیری عوام آزادی کا سورج دیکھے گی۔

سردار امتیاز گڑالوی نے کہا کہ جنگ میں پانچ لاکھ سے زائد قتل کیا گیا۔ پاکستان کےلئے سب سے زیادہ قربانیاں کشمیریوں نے دی۔ غازی ملت کی رہائشگاہ پر تحریک الحاق پاکستان کی قرارداد پاس کی گئی۔ اگر شیخ عبداللہ غداری نے کرتے تو کشمیر کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ پاکستان کی بنیادوں میں سب سے زیادہ کشمیریوں کا خون ہے۔

آج ہندوستانی سامراج کشمیر میں ظلم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ ہم نے کشمیر ہی نہیں جونا گڑھ اور حیدرآباد کو بھی لینا ہے۔ ہندوستان کو پتہ چل گیا ہے کہ وہ کشمیریوں کے طوفان کے سامنے نہیں کھڑا ہو سکتے۔ دنیا ہندوستان کو بتائے کہ وہ ہوش کے ناخن لے۔ اس وقت تک کشمیر کی جنگ جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام کو فتح نہیں ملتی۔ بھیک سے نہیں خون کی تحریر سے آزادی ملے گی۔

خورشید احمد بھلی نے کہا کہ راجہ علی اعجاز عوامی قونصل جنرل ہیں۔ ہمیں ان ہر فخر ہے۔ کشمیر انسانیت کا مسلہ ہے کہ جہاں بے گناہ انسانوں کو بے رحم فوج اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہی ہے۔ انسانیت پر یقین رکھنے والے ہر انسان کو کشمیر کو اپنا مسلہ سمجھنا چاہئیے۔ میرے دادا کہتے تھے کہ ہمیں کشمیر ریاست واپس مل جانی ہے اور ہم نے واپس چلے جانا ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم نیویارک میں کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کریں۔
ندیم عابد نے کہا کہ صرف نعروں سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا۔ ایسٹ تیمور والوں نے نیویارک سے جدوجہد کا آغاز کرکے آزادی لے لی۔ ہمارے ہاں کشمیری قیادت زیادہ تقسیم ہے۔ اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سب کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر ایک کاز کے لئے کام کرنا ہوگا۔ کشمیر میں آج بھی لوگ سینے پر گولی کھا رہے ہیں۔ ان کو ہماری اخلاقی ، سیاسی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ فنڈ±ریز کریں اور کولمبیا یونیورسٹی میں ایک ریسرچ چئیر قائم کریں۔

سردار سوار خان نے کہا کہ نہرو خود اس کیس کو لیکر اقوام متحدہ میں آئے اور یہ وعدہ کیا کہ کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا موقع دیا جائے گا۔ سترہ قراردادیں ہیں لیکن عمل نہیں کیا گیا۔ وہاں عمل کی کوشش کی گئی لیکن ہر کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ پاکستان کو سلام کہ جو کشمیریوں کی وکالت اور ترجمانی کرتا ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو منظور کروانے میں اہم ممالک نے مدد کی لیکن ان قراردادوں پر عمل کروانے کے لئے پاکستان مسلسل اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ ستائیس اکتوبر کو ہندوستان نے فوجیں اتار دیں۔ اس دن سے ظلم و جبر کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمارا ہندوستان سے کوئی مسلہ نہیں۔ ہندوستان ہمارے گھر کا قبضہ چھوڑ دے۔ کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں بلکہ اس کا فیصلہ بھی دو قومی نظرئیہ کے تحت ہونا چاہئیے۔ 562میں سے صرف ایک ریاست کشمیر کا مسلہ حل نہیں کیا جا رہا۔

ہم اپنی مشکلات کو متحد ہو کر دور کر سکتے ہیں۔ پاکستان سب سے پہلے ہونا چاہئیے۔ سیاسی جماعتیں بعد میں آتی ہیں۔ ہم کو ایک ہونا ہے۔ مسلمان اور ایٹمی قوت پاکستان کو دیکھ کر دنیا جانتے ہوئے بھی کشمیر کے مسلہ پر انجان بن جاتی ہے۔ مودی کی ہر بات میں تضاد ہے۔ انشااللہ کشمیر کو آزادی ملے گی۔ ہمیں اپنی ترجیحات کو درست کرنا ہوگا۔ اگلے سال ستائیس اکتوبر کا دن سیز فائر لائن پر منائیں گے۔ کشمیری قیادت اور عوام کشمیر کاز پر متحد ہے۔ پاکستان کو شملہ معاہدہ سے الگ ہو جانا چاہئیے۔ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستان نے سیا چین پر قبضہ کیا۔ ہندوستان قطعی طور پر دوطرفہ طور پر مسلہ کے حل میں کردار ادا نہیں کرتا اور نہ کرے گا۔ یہ مسلہ ہندوستان کو مجبور کرکے حل ہوگا۔

 


تاریخ اشاعت : 2017-11-02 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock