پاکستانی امریکن یوتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام یوم قرار داد پاکستان کا سب سے بڑا و عظیم الشان جلسہ ، ملک و قوم کا سفیر بن کر وطن کا نام روشن کریں گے ، کمیونٹی کا عزم

 

نیویارک (رپورٹ: ماجد جرال ) پاکستان امریکن یوتھ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام بروکلین کے مقامی ہوٹل میں یوم پاکستان کے حوالے سے خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کی نمائندہ پچیس تنظیموں،مشہور شخصیات، خواتین، بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی پاکستانی قونصلر برائے نیویارک راجہ علی اعجاز نے شاندار تقریب کے اہتمام پر منتظمین کی کوششوں کو سراہا۔ اس موقع پر مقامی ہوٹل کے ہال کو پاکستانی پرچموں سے سجایا گیا جبکہ قومی نغموں کی گونج سے ہر پاکستانی کا دل وطن کی محبت میں شرشار نظر آیا۔

 

میزبان انتظامیہ کی طرف سے تقریب کے شرکا کا بھی پرتباک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی پاکستانی راجہ علی اعجاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی کے منعقدہ پروگراموں میں آکر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور اس پروگرام کو جس طرح منظم انداز میں کروایا گیا وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے شرکا کو تاکید کی کہ قراداد پاکستان کا متن ازبر پڑھنا بھی ہم سب کے لیے ضروری ہے کیونکہ تاریخ پاکستان میں یہ قراداد یا یوم پاکستان منانے کو تاریخی حیثیت حاصل ہے، قونصلر جنرل راجہ علی اعجاز نے منتظمین کو تجویز دی کہ مستقبل میں منعقد کیے جانے والے پروگرام میں اگر قردادا پاکستان کا خصوصی تذکرہ رکھا جائے تو پاکستانی کمیونٹی کی نئی نسل حقیقی معنوں میں قراداد پاکستان کی روح کو جان سکے گئی۔ یوم پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں ہر پاکستانی نے بڑھ چڑھ کر وطن سے محبت کا اظہار کیا۔ تقریب کے دیگر شرکا نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے ضرور دیا کہ ہمیں عہد کرنے کی ضرورت ہے، ہم پاکستان کی ترقی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں اور ایسے پروگراموں کے ذریعے امریکہ میں پاکستانی نوجوانوں کو تاریخ پاکستان سے بھرپور روشناس کروایا جائے۔ تقریب میں شریک جناب امام عبداللہ دانش نے پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا بھی کروائی اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تحریک چلانے والوں میں سے علامہ اقبال کا کردار مثالی رہا تاہم افسوس کہ انہیں پاکستان دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ خدا کرے ہم وہ کھویا ہوا مرتبہ حاصل کر سکیں جس کے خواب بانی پاکستان اور شاعر پاکستان نے دیکھا تھا۔ پاکستانی کرسچن ایسوسی ایشن کے رہنما فادر الیاس کا اس موقع پر کہنا تھا کہ
یہ خوشی کا موقع ہے کہ ہم آج سب اکٹھے بیٹھے ہیں، نوجوانوں کی یہ کاوش قابل ستائش ہے۔ ایسی تقاریب سے امریکہ میں رہنے والی ہماری نسل کو پتہ چلے گا کہ قرداد پاکستان کیا ہے اور کیسے پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ 77 سال بعد بھی یہ دن ہم اسی جوش وخروش سے منا رہے ہیں اور وطن سے اسی طرح محبت کرتے رہے گے۔

 

سماجی شخصیت معاوذ صدیقی نے قراداد پاکستان کے حوالے سے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرداد پاکستان کسی مقصد کے لیے شروع ہوئی نہ کچھ لوگوں کی نوکریوں کے لیے یہ ملک بنا۔ تحریک ہندوں اور انگریزوں کے متعصابانہ رویے کے باعث شروع ہوئی تاہم پاکستان میں متعصبانہ رویوں کی نفی کرتے ہوئے اقلیتوں کے حقوق کا بھرپور تحفظ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کا ہے اور اگر ان سے ان کی پہچان چھین لی گئی تو تحریک پاکستان کا مقصد فوت ہو جائے گا۔
تقریب میں شریک 1965 کی پاک بھارت جنگ کے غازی کرنل( ر) ملک مقبول نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قراداد پاکستان آج بھی پاکستان کے آئین کا حصہ ہے اور اس پر ہمیں فخر ہے۔

قرداد پاکستان دنیا بھر میں اپنی انفرادی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم نے برطانوی راج کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ ہم نے دیکھا کہ باہمت قیادت نے یہ خواب شرمندہ تعبیر کیا۔

پاکستان کے قیام کے لیے لاکھوں افراد نے قربانیاں دیں اور وہ فخر سے پاکستان کے لیے یہ قربانیاں دیتے رہے۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان کی معاشی حالت قابل ذکر نہیں تھی مگر آج اللہ کے کرم سے کافی بہتری آئی ہے اور مستقبل میں مزید بہتری آئے گئی۔ ہمیں پاکستان کے حوالے سے پرامید رہنا چاہیے۔ دو قومی نظریے کو کوئی بھی رد نہیں کر سکتا،پاکستان کا مطلب کیا لااللہ الہ لا کا نعرہ ہم نے قائد اعظم کے منہ سے سنا تو کون ہے جو اس کو جھٹلائے۔ نوجوان سیاست دان فیاض خان نے ایک شعر میں اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے وطن سے محبت کا اظہار کیا۔
"خدا کرے کے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو"
مشہور شخصیت محمد خورشید
نے شاندار پروگرام منعقد کرنے پر "پائیو" کی ٹیم کو مبارک باد دی اور کہا کہ پاکستان کئی سالوں کی محنت کے بعد معرض وجود میں آیا،اس وقت قوم کو ملک کی ضرورت تھی اور اور آج ایک ملک کو قوم کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جمہوریت نہیں شخصیت پسندی کا نظام لاگو ہے۔ فرحان علی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا ہمیں ضرورت ہے کہ پاکستان کی تعمیر وترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ گلگت بلتستان کی نمائندہ تنظیم کے سربراہ نسیم گلگتی نے خطاب میں کہا کہ 23 مارچ کی تعلیمات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں آج پھر سے ایک قوم بننا ہوگا تاکہ ہم اپنے مقاصد حاصل کر سکیں اور دنیا دنیا کو دیکھیں ہم باہمت قوم ہیں۔

تقریب میں خواتین کی کردار بھی مثالی رہا، فریدہ خان اور روبی ملک کی کوششوں سے بچوں کے تیارکردہ ٹیبلو اور قومی گیت نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا، جس کے بعد ہال پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اسی دوران سیاسی و غیر سیاسی تنظمیوں کے نمائندگان سبھی اسٹیج پر اکٹھے ہوگئے اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یکجہتی کا اظہار کیا۔ بعدازاں کمیونٹی رہنما شبیر گل نے اظہار خیال کرتے ہوئے منتظم تقریب چوہدری محمد حسین, پائیو اور تمام ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دیار غیر میں ایسی تقریب سے ہمارے بچوں میں پاکستان کے لیے والہانہ محبت کا جذبہ مزید بیدار ہوگا،پاکستان میں دہشت گردی کا جو دور دورہ ہے اس کے خاتمے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے اور معاشی دہشتگروں کو بھی انتخابات میں شکشت دینے کی ضرورت ہے۔ سینئر صحافی مسعود حیدر نے بھی خطاب میں زور دیا کہ ہم سب کو آگے بڑھ کرپاکستان کی ترقی کے لئے کردار ادا کرنا چاہیے۔

 

ریپپکن پارٹی کے رکن و سابق امیدوار برائے گانگریس آغا افضل نے شرکا کو تاکید کی کہ پاکستانی امریکی سیاسی پارٹیوں کا حصہ بنیں اور انتخابات میں پاکستانی نڑاد امیدواروں کا بھرپور ساتھ دیں۔ خواتین کی نمائندہ روبی ملک کا خطاب میں کہنا تھا کہ آج کا دن تجدید پاکستان کا دن ہے۔ ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والی خاتون رہنما مس نائیلہ کا کہنا تھا یوم پاکستان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمیں ہر طرح کی غلامی کی زنجیریں توڑ کر وطن کی ترقی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس موقع پر پاکستان تعلق رکھنے والی گلوکارہ ثروت جہاں کے پیش کردہ قومی نغموں"تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے اور " اس پرچم کے سایے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں" نے حاضرین کے دل جیت لیے جس کے بعد ہال بھرپور تالیوں سمیت پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتا رہا۔ تقریب میں شریک خیبر سوسائٹی کے صدر بہادر علی نے بھی شرکا کو یوم پاکستان پر مبارکباد پیش کی اور اتحاد و یگانگت پر زور دیا۔ مشہور شخصیت شیخ توقیر اللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقاریب کے ذریعے ہم نے اپنے بچوں کی علمی و سیاسی تربیت بھی کرنا ہے تاکہ انہیں امریکی سیاسی نظام میں کھڑا کرنے کے قابل بنایا جاسکے اور جب پاکستانی بچے امریکی سیاسی ایوانوں میں پہنچیں تو پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔

 

سماجی رہنما پرویز صدیقی کا کہنا تھا کہ یوم پاکستان پر عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو تاریخ پاکستان سے روشناش کروانے کیے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔ سنیئر کمیونٹی رہنما بشیر قمر کا خطاب میں کہنا تھا کہ اگر ہم متحد ہوں اور سچائی سے چلیں تو قطع مشکل نہیں کہ ہم آج بھی تعمیر وترقی کی بلندیوں کو پا سکیں۔ امریکی ریاست پنسلوینیا سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیت پروفیسر اشرف عدیل کا کہنا تھا کہ ملک میں انصاف کی قدریں ناپید ہوتی جارہی ہیں۔ پاکستان کے مقتدر حلقوں نے ہمیں ان اقدار کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیا جو قراداد پاکستان کی روح تھیں اور اسی وجہ سے بنگلہ دیش کا قیام بھی عمل میں آیا،عزت نفس کو پامال کرنے سے کوئی ملک اپنی ساکھ قائم نہیں رکھ سکتا۔

 

نامور کمیونٹی رہنما وکیل انصاری کا کہنا تھا کہ یوم پاکستان کے موقع پر ہمیں ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے پرچم کو بلند کیا۔ سرکردہ کمیونٹی لیڈر سردار خان کا بھی کہنا تھا کہ تقریب انتظامیہ کی طرف سے بینیرز میں کشمیر کا تذکرہ کرنا قابل ستائش ہے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا،قراداد پاکستان کی تکمیل اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں بن جاتا۔ کمیونٹی رہنما راجہ رزاق کا کہنا تھا کہ پوری دنیا پاکستان کی طاقت کو سمجھتی ہے اور جانتی ہے کہ پاکستان کے لوگوں میں کتنی صلاحتیں ہیں۔ طاہر خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وطن پرستی کا جذبہ بھی عجیب ہے کتنی بھی ہجرتیں کر کیں وطن مٹی کی نسبت کوئی نہیں چھین سکتا۔ ڈاکٹر شفیق کا خوبصورت قول کو اپناتت ہوئے کہنا تھا کہ اتحاد, تنظیم اور یقین محکم ایک تربیت کا نام ہے جو ہم سے چھینی جا رہی ہے، جسے روکنا ہوگا۔

 

زمان آفریدی نے یوم پاکستان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے افسردہ لہجے میں کہا کہ ہم وہ پاکستان نہیں دیکھ پا رہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔ تقریب کے اختتام پر قونصلر جنرل راجہ علی اعجاز نے جیم سیپمن، ولیم شہزاد، شبیر گل،تسنیم شہزاد، ارشد چوہدری، بہادر شاہ، ارم شریں، عدنان قریشی، کرنل(ر) مقبول، ڈاکٹر ضیغم عباس، ڈاکٹر دیدار کریم، فضل الحق، روبینہ سلیم ملک، سردار سوار خان، محترمہ شازیہ وٹو، ڈاکٹر شہباز احمد چشتی، وکیل انصاری، سنیئر صحافی مجیب لودھی میں خصوصی ایوارڈز بھی تقسیم کیے جو ان شخصیات کی امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کے لیے خدمات کا اعتراف ہے۔
۔


تاریخ اشاعت : 2017-04-01 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock