واشنگٹن میں قتل ہونیوالا پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور سیالکوٹ میں دفن؛چند ڈالروں کی خاطر جان لینے والا قاتل گرفتار

سات نومبر کو ڈکیتی کی واردات کے دوران قتل ہونے والے محمد قدیر کی میت پاکستان روانہ کر دی گئی جہاں انہیں ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا
چالیس سالہ پاکستانی ڈرائیور کو جس سیاہ فام امریکی نے محض چند ڈالروں کی خاطر ہلاک کر دیا ،کو پولیس نے اس کی گرل فرینڈ سمیت گرفتار کر لیا ہے



 

 

 

 

 

نیویارک(محسن ظہیر سے ) امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں سات نومبر کو ڈکیتی کی واردات کے دوران قتل ہونے والے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور محمد قدیر کی میت پاکستان روانہ کر دی گئی جہاں انہیں سمبڑیال، سیالکوٹ کے قریب ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔چالیس سالہ پاکستانی ڈرائیور کو جس سیاہ فام امریکی نے محض چند ڈالروں کی خاطر ہلاک کر دیا ،کو پولیس نے اس کی گرل فرینڈ سمیت گرفتار کر لیا ہے ۔
واشنگٹن ڈی سی میں موجود پاکستانی رئیل سٹیٹ بزنس مین خالد ریاض جنہوں نے اس سال جنوری میں مقتول کو گھر خرید نے میں مدد کی ، نے بتایا کہ محمد قدیر کا قاتل اس کی گرل فرینڈ کی فون کالز کی وجہ سے گرفتار ہوا۔قاتل اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ واشنگٹن ڈی سی کے ایک موٹل میں قیام پذیر تھا۔ پیسوں کی کمی کی وجہ سے وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ ڈکیتی کی واردات کے لئے نکلا۔وہ محمد قدیر کی ٹیکسی میں سوار ہوئے اور برینٹ وڈ پارک وے پر جاکر اسے لوٹنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں اسے گولی مار دی ۔زخمی ہونے کے بعد ڈرائیور اپنی گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور وہ ایک قریبی بلڈنگ کے جنگلے سے جا کر ٹکرائی ۔واردارت کے بعد مقتول اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ جائے واردات سے فرار ہو گیا۔جب وہ واپس اپنی قیام گاہ پر پہنچا تو اس کی گرل فرینڈ نے اپنی ایک دوست کو کال کرکے بتایا کہ ان سے قتل ہو گیا ہے ۔اس کی دوست نے ایک دوست سے واقعہ کا ذکر کیا اور دوسری دوست نے واشنگٹن ڈی سی کے ساتھ واقعہ امریکی ریاست میری لینڈ سٹیٹ پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد میری لینڈ پولیس اور واشنگٹن ڈی سی پولیس نے مشترکہ کاروائی کرکے قاتل کو اس کی گرل فرینڈسمیت گرفتار کر لیا۔
بتایا گیا ہے کہ مقتولین کے خلاف قانونی چارہ جوئی جاری ہے ۔ پاکستانی امریکن کمیونٹی کا بھی پولیس حکام سے مطالبہ ہے کہ مقتولین کو کیفر کردار تک پہنچائیں ۔مقتول محمد قدیر کے پسماندگان میں چار، چھ اور آٹھ سال کے تین بیٹے اور بیوہ شامل ہے جو کہ اپنے خاندان کے سربراہ کے جسد خاکی کے ساتھ پاکستان گئے ۔

تاریخ اشاعت : 2012-10-24 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock