امریکہ میں بسنے والے مسلمان ”مسلم امریکن “ہونے پر فخر محسوس کریں ؛ کانگریس مین کیتھ ایلیسن کا ڈاکٹر عثمان صدیقی کے فنڈ ریزنگ استقبالیہ سے خطاب

نیویارک (محسن ظہیر سے ) امریکی کانگریس میں مسلم امریکن کانگریس مین کیتھے ایلیسن نے امریکہ میں بسنے والی مسلم امریکن کمیونٹی سے کہا ہے کہ وہ بطور مسلمان ، مسلم امریکن ہونے پر فخر کریں اور جب بھی کوئی پوچھے کہ کیا تم مسلمان ہو تو فخر سے بتائیں کہ ہاں ہم مسلمان ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی امریکن کمیونٹی کی جواں سال شخصیت ڈاکٹر عثمان صدیقی کی رہاشگاہ پر دئیے جانیوالے ایک افطار استقبالیہ سے خطاب کے دوران کیا ۔کمیونٹی کی ممتاز سماجی شخصیت ڈاکٹر غفران صدیقی کے جواں سال صاحبزادے ڈاکٹر عثمان صدیقی کے زیر اہتمام ہونے والے اس فنڈ ریزنگ استقبالیہ میں سابقہ مئیر ٹینک ، نیوجرسی محمد حمید الدین، معروف ڈاکومینٹری میکر ، رائٹر، کامیڈین ڈین عبید اللہ اور قونصل جنرل راجہ علی اعجاز نے خصوصی شرکت کی ۔تقریب میں زینت القراءقاری سید صداقت علی بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے اور انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں قران مجید کی تلاوت کرکے تقریب میں وجد کی کیفیت پیدا کر دی ، کانگریس مین ایلیسن نے قاری صداقت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قرات کی وجہ سے ان کے دل میں ایک روحانی کیفیت پیدا ہوئی ۔
فنڈ ریزنگ استقبالیہ میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اورفنڈ ریزنگ میں حصہ لیا ، ان شخصیات نے کانگریس مین ایلیسن کو اپنی مسلسل سپورٹ کا یقین دلایا۔
استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس مین ایلیسن نے کہا کہ اگر کوئی پوچھے کہ کیا تم مسلمان ہو تو فخر سے کہوکہ ہاں میں مسلمان ہوں ، امریکہ میں تمام مذاہب کے احترام کی قدر ، اسلامی اقدار کے قریب ہے ، امریکہ جیسی مذہبی آزادی کی مثال دنیا میں نہیں ملتی۔ انہوں نے مسلم امریکن کمیونٹی پر زور دیا کہ امریکہ کے قومی و سیاسی نظام کو موثر حصہ بنیں اور ترقی کی دوڑ میں سب کے ساتھ شامل ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام کا حصہ بن کر وہ زیادہ موثر انداز میں اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ کانگریس مین ایلیسن نے امریکی ایوان نمائندگان میں اپنے کردار کے علاوہ غزہ کی صورتحال ، امریکہ ، مغرب اور مسلم ورلڈ کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے خیالات بھی پیش کئے اور اس سلسلے میں اب تک کئے جانیوالے اپنے کردارکو بیان بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کی نسبت امریکہ میں بسنے والے مسلم امریکن کو اپنے مذہب کو پریکٹس کرنے کی زیادہ آزادی حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم امریکن کمیونٹی دیگر ترقی کرنے والی کمیونٹیز یا واشنگٹن ڈی سی سمیت امریکی نظام میں جن کمیونٹیز کی اہمیت و اہم کردار ہے ، ان کے نظا م کی تقلید کریں ۔ آپس میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کی طرح آگے بڑھیں ۔
نیوجرسی کے ٹینک ٹاو¿ن کے سابق مئیر و موجودہ کونسل مین محمد حمید الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیتھ ایلیسن سیاست میں آگے آئے، مسلم امریکن کمیونٹی کو سیاست سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ انہوں نے کیتھ ایلیسن کی شخصیت کو ایک متاثر کن شخصیت قرار دیا ۔
قونصل جنرل راجہ علی اعجاز نے خطاب کرتے ہوئے کاہ کہ پاک امریکہ تعلقات دیرینہ ہیں ، امریکہ پاکستان کا اہم تجارتی پارٹنر بھی ہے ، ویر اعظم نواز شریف کی حکومت امریکہ سے امداد کی بجائے تجارت کو فروغ دے کر تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ میں بسنے والی کمیونٹی کی خدمات قابل قدر ہیں ۔ دونوں ممالک کے تعلقات کے فرو غ میں کمیونٹی کا کردار قابل ستائش ہے ۔
استقبالیہ کے میزبان ڈاکٹر عثمان صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان امریکہ سمیت پوری دنیا میں امن و خوشحالی چاہتے ہیں، امریکہ میں رائے اور مذہب کی آزادی جیسی اعلیٰ اقدار موجود ہیں، نظام کے قومی دھارے میں شامل ہر کر مقاصد حاصل کرنے چاہئیے ۔
پاکستانی امریکن کمیونٹی کے معروف سکالر، اینکر پرسن و کالم نویس فائق صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں بسنے والے آٹھ ملین مسلم امریکن کو امریکی سیاسی نظام میں انویسٹ کرنا ہوگا، صرف دعا نہیں بلکہ اپنے ووٹ بنک اور وسائل کو بھی استعمال میں لانا ہوگا۔
ڈاکٹر غفران صدیقی اور ذاکر صدیقی نے کانگریس مین ایلیسن کو اپنی رہائشگاہ پر خوش آمدید کہا ، شرکاءسے تعارف کروایا، آخر میں ڈاکٹر غفران صدیقی نے دعا کروائی، کانگریس مین کو اسلامی کتاب تحفے میں پیش کی
۔

 

تاریخ اشاعت : 2014-08-06 00:00:00
مقبول ترین خبریں
امیگریشن خبریں
SiteLock